Skip to content

اکنا کنونشن 2026: علم سے عمل تک کا سفر

ثمینہ ضیاء
اووشوا ۔۔OSHAWA

الحمدللہ، 10 اور 11 اکتوبر 2026 کو منعقد ہونے والا اکنا کینیڈا کنونشن اپنی تمام تر رونقوں اور برکتوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ یہ دو دن محض ایک اجتماع نہیں تھے بلکہ ایمان کی تازگی، فکر کی بالیدگی اور دلوں کے ملاپ کا ایسا موقع تھے جس کی خوشبو دیر تک ساتھ رہے گی۔

لاجواب تھیم۔۔📝
اس سال کی تھیم تھی: “علم سے عمل تک — نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر” (From Knowledge to Action: In the Footsteps of the Prophet ﷺ)۔ یہ عنوان اپنے اندر ایک مکمل پیغام رکھتا ہے۔ ہم سنتے بہت ہیں، جانتے بھی بہت ہیں، مگر اصل امتحان اس علم کو زندگی میں ڈھالنے کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ علم وہی ہے جو کردار بن جائے۔ ہر نشست اسی مرکزی خیال سے جڑی رہی اور شرکاء کو سوچنے کا ایک رخ اور عمل کا ایک پیغام ملا۔

دلکش سجاوٹ🌟🌟🌟
داخل ہوتے ہی سبز، سنہری اور سفید غباروں کے درمیان جگمگاتے حروف “ICNA 2026” نے استقبال کیا۔ یہ گوشہ ہر آنے والے کی توجہ کا مرکز رہا اور بے شمار خاندانوں نے یہاں اپنی یادیں تصویروں میں محفوظ کیں۔
اکنا سسٹرز کا بوتھ اور پروگرام۔۔✨
اکنا سسٹرز کا بوتھ سلیقے اور محبت کی تصویر تھا۔ خندہ پیشانی سے ملتی کارکنان اور تعارف کا دلنشین انداز ہر آنے والی بہن کو اپنائیت کا احساس دلاتا رہا۔ سسٹرز کا پروگرام بھی بہت اچھا رہا، جس میں دل کو چھو لینے والی باتیں بھی تھیں اور عملی زندگی کے لیے رہنمائی بھی۔

ملاقاتیں، کھانے اور چائے☕
کنونشن کی اصل خوبصورتی اس کی ملاقاتوں میں ہے۔ مل بیٹھنے کی جگہوں پر برسوں بعد ملنے والے چہرے، گرم جوشی سے سلام اور بے ساختہ مسکراہٹیں ہر طرف نظر آئیں۔ کھانے کے اسٹالوں پر خوب رونق رہی۔ اور چائے؟ مزیدار چائے تو محض مشروب نہیں، دوستی کا پیغام ہوتی ہے۔ 🫖 کیا خوب لمحے تھے یادوں میں اسکی خوشبوں دیر تک رہے گی ۔
باجماعت نماز کے روح پرور مناظر۔۔۔✨
اذان کی صدا بلند ہوئی تو ہال کی ساری چہل پہل تھم گئی۔ ملاقاتیں، گفتگو، خرید و فروخت، سب کچھ ایک طرف رہ گیا، کہ مومن اپنا ہر کام چھوڑ کر اپنے رب کے حضور کھڑا ہو جاتا ہے۔ خوبصورت تلاوت نے دلوں کو نرم کر دیا، اور پھر وہ منظر کہ صف در صف مرد و زن ایک اللہ کے آگے سجدہ ریز تھے۔ یہی وہ لمحے تھے جن میں کنونشن کی تھیم مجسم نظر آئی، کہ علم جب عمل بنتا ہے تو سب سے پہلے پیشانی سجدے میں جھکتی ہے۔

اکنا برادرز کی محنت۔۔🤲
صبح سویرے سے رات 12 بجے تک، دو دن کے اتنے بڑے اجتماع کو خوش اسلوبی سے سنبھالنا آسان کام نہیں۔ نظم و ضبط سے لے کر چھوٹی چھوٹی سہولتوں تک، ہر گوشے میں اکنا برادرز کی محنت صاف نظر آ رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔امین
خلوص، محبت، اپنائیت کا دوسرا نام اکنا سسٹرز ❤️ کنونشن کمیٹی کی بہنیں اپنی تھکاوٹ کو چھپائے ہنستی مسکراتی ڈیوٹی میں مصروف ہیں تو دوسری طرف لیڈر شپ کا ساتھیوں میں موجود ہونا یہی تو خوبی ہوتی ہیں اجتماعیت کی ۔۔سبحان اللہ 🩶🩶

نشید کی شام🎙️🌹
عشاء کی نماز کے بعد نشید نے خوب اپنا رنگ جمایا اور نہ صرف ماحول بہت پرجوش ہوا بلکہ بچوں نے بھی خوب انجوائے کیا ۔
احبابِ جمعیت کا کمرہ اور یادوں کا ترانہ 🔦
احبابِ جمعیت کے کمرے سے ایک خوبصورت ترانے کی آواز بلند ہوئی، وہی ترانہ جو اجالوں کا پیغام بر بننے، اپنے جلائے ہوئے چراغوں کی حفاظت کرنے اور نفرت کے اندھیروں کو محبت سے رخصت کرنے کا عہد ہے:
**ہم اجالوں کے پیغام بر ہیں
روشنی کی حمایت کریں گے
جو دئے ہم نے روشن کئے ہیں
ان دیوں کی حفاظت کریں گے

اپنے سورج کو بجھنے نہ دیں گے
چاند روشن رہے گا ہمارا
یہ اندھیرے جو ہیں نفرتوں کے
ان اندھیروں کو رخصت کریں گے

جو تعصب کی کرتے ہیں باتیں
وہ تو خود اپنے دشمن ہیں یارو
ہم محبت کے پیغامبر ہیں
ہم تو سب سے محبت کریں گے**

اس ترانے نے یادوں کے دریچے کھول دیے۔ گزرے دنوں کے ساتھی، وہ جذبے اور وہ عہد سب آنکھوں کے سامنے آ گئے۔ پھر تکبیر کی گونج میں نعرے بلند ہوئے تو دل کی عجب کیفیت تھی۔ اس کیفیت کو کیا نام دیں؟ شاید اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں، اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اختتامیہ…🤝
کنونشن ختم ہوا، مگر اس کی تھیم کا اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ جو کچھ سنا اور سیکھا، اسے اپنے گھروں، اپنے رویّوں اور اپنے معاشرے تک پہنچانا ہی “علم سے عمل تک” کا سفر ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام منتظمین، speakers اور volunteers کو بہترین اجر دے اور ہمیں نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *