ماریہ علی احمد
مسسی ساگا
اور ابراہیم تو وہ ہے جس نے اپنا عہد ( وفا کا حق ادا) پورا کر دیا
سورہ النجم ۳۷
سیدناابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ہر گوشہ، جسے قرآن و حدیث نے محفوظ کیا، قربانی کی ہی کسی نہ کسی قسم کا مظہر ہے۔۔۔
کہیں والد و قبیلے والوں کو دعوت دیتے ہوئے، گھر کی آرام دہ زندگی کی قربانی نظر آتی ہے ، تو کہیں بھڑکتی ہوئی آگ میں تمام ظاہری اسباب سے بے نیازی کا بے مثل مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
سالہا سال کے انتظار کے بعد پیدا ہونے والے عزیز بیٹے و محبوب بیوی کو بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑتے ہوئے فطری جذبات پر قابو پانا کار دشوار تو رہا ہوگا، اور پھراسی باسعادت فرزند کو راہ خدا میں اپنے ہاتھوں قربان کرنے کا ارادہ باندھنا، شفقت پدری کی قربانی ہی تو تھی۔۔۔
مدعا و منتہا کیا تھا، صرف اور صرف۔۔۔ عہد کی پاسداری، دین میں مکمل داخل ہونا، ہر سود و زیاں سے بے نیاز ہوجانا، ہر محبت کا خدائے وحدہ لاشریک کی محبت پر قربان ہوجانا۔۔۔
محبت کیا ہے، دل کادرد سے معمور ہوجانا
اور پھر یہی محبت ، حکم الہی کی تکمیل میں بیت اللہ کی تعمیر میں لگواتی ہے۔۔۔ اور وسعت نظری و یقین محکم کی انتہا دیکھیے کہ دعا کیا مانگی جارہی ہے
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ
کوئی شک، ذرا سا بھی تو شبہ نہیں، ہر بے یقینی و وسوسے کی قربانی کہ یقینا میرا رب اس پر قادر ہے کہ صحرا میں پھول کھلادے۔۔۔
ایسے ہی یقین رکھنے والے ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کے سبب آج ہم نبی کریم (ص) کے امتی کہلائے جاتے ہیں، تو ہم پر تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا احسان ہی بہت ہے، پھرآخر ہم ان کی سنت کو اس کی اصل روح کے ساتھ ادا کیوں نہیں کرتے، اپنے غیر نافع مشاغل، اپنے نفس کے بےلگام گھوڑے کی قربانی دے کر، ان کی طرح عہد کو وفا کیوں نہیں کرتے۔۔۔ آخر کیوں؟؟؟

