رفعت إقبال
مسی ساگا
خزاں کے موسم زندگی کی بہاروں کا پتہ دیتے ہیں، سوکھے پتے نوید دیتے ہیں کہ بہار کی آمد آمد ہے اور یہ خوبصورت سر زمین رنگ برنگے پودوں بوٹوں سے سجنے والی ہے
انہی احساسات کے ساتھ نعیم صدیقی کے شعری مجموعہ نے گویا انمول تخلیق کے موتی بکھیر دئیے
کتاب کے ورق الٹتے جائیں تودیکھتے ہیں کہ زندگی کے مختصر سے شب وروز میں متعدد کارواں لٹتے رہتے ہیں، فضا نہ جانے کیسے اپنی شبنمی چادر میں ان آہوں اور سسکیوں کو گلے سے لگا لیتی ہے _
اس پیار ے سے شعری مجموعے میں نعیم صدیقی نے اسلامی انقلاب کے راہیوں کو سلام پیش کیا ہے _
میرے سامنے ایک نظم ہے جس کا عنوان ہے
وہ لمحہ آیا تو میں نے سوچا!
یہ نظم اس وقت لکھی گئی جب 1953 میں فوجی عدالت نے مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا سنائی – آئین اخبار کے مدیر نے بعد میں ایک اشاعت خاص کے لیے جناب نعیم صدیقی کو سوالنامہ بھیجا کہ اس موقع پر آپ کے تاثرات کیا تھے_ جوابآ یہ نظم لکھی _
نظم کے کچھ اشعار. ملاحظہ ہوں _
یہ مجھ سے اک ہمسفر نے پوچھا
کہ جب وہ نازک سا لمحہ آیا تمہارا ردعمل رہا کیا
خیال افزا سوال سن کر جہان احساس جاگ اٹھا
پرانی یادوں کے چھانے دفتر ورق ورق فکر نے سمیٹا
میں اب بتاؤں تو کیا بتاؤں کہ دل کا عالم رہا تھا کیسا
تھا اک تحیر بھی ایک غم بھی! یقیں بھی ابھرا، جنوں بھی مچلا
خیال امڈے، سوال جاگے، جواب ہونے لگے پھر القا
___ ____ ___. ___ ___
وہ لمحہ آیا تو میں نے سوچا
کہ اتنی تیزی سے داستان وفا کی تکمیل ہو سکے گی؟
ستم جہول عجول بھی ہو، مگریہ تعجیل ہو سکے گی؟
جو حکم لکھتے ہیں بےتامل خود ان سے تعمیل ہو سکے گی
وہ لمحہ آیا تو میں نے سوچا
اگر ہے یہ سانحہ معلق، اگر ہے یہ حادثہ مقدر
قتیل کے خوں کی دھار ہی خود بنےگی دست قضا کا خنجر
وہ ہو کے نادم جھکیں گے آخر، لئے ہیں جو تاج کبر سر پر
🌷🌷🌷🌷🌷
وہ لمحہ گزرا تو سوچتا ہوں
وہ لمحہ اب تک بھی وقت کے قافلے کے ہمراہ چل رہا ہے
وہ ایک لمحہ جو کفر باطل کو ضرب پا سے مسل رہا ہے
وہ ایک لمحہ کہ جس کے دامن میں، دور نو ایک پل رہا ہے
وہ ایک لمحہ جو کتنے ہی آنسوؤں کی شمعوں میں جل رہا ہے
مسافرو بڑھ کے تھامو دامن، وہ تم سے آگے نکل رہا ہے
بچھڑ کے جو رہ گیا ہے پیچھے وہ غمزدہ ہاتھ مل رہا ہے
🌷🌷 🌷🌷 🌷🌷
یہ مجھ سے اک ہمسفر نے پوچھا
کہ جب وہ نازک سا لمحہ آیا ، تمہارا ردعمل رہا کیا
🌹🌹. 🌹🌹. 🌹🌹 🌹🌹

