S.Uzma
نیا سال آیا ہے در پہ مگر
غزہ میں وہی زخم، وہی انتظار
وہی ٹوٹتی چھت، وہی سسکیاں
وہی ماؤں کی آنکھوں میں بے شمار سوال
یہاں جشن کی باتیں، چراغاں، ہنسی
وہاں خاک میں لپٹے ہیں خواب ابھی
یہاں وقت بدلتا ہے کیلنڈر میں
وہاں وقت تھما ہے، وہیں کا وہیں
نیا سال ہم سے سوال کرتا ہے
کیا خاموشی بھی کوئی جرم نہیں؟
کیا بچوں کی لاشوں پہ چپ رہ جانا
انسان ہونے کی نفی نہیں؟
اے غزہ! تو صرف خبر نہیں
تو ضمیرِ عالم کی آزمائش ہے
ہر ملبے تلے جو دعا ہے دبی
وہی اصل میں سال کی خواہش ہے
نیا سال تب ہی مبارک ہو
جب ظلم کے ہاتھ کو روکا جائے
جب خوف کی شب میں بھی غزہ کے لیے
انصاف کا سورج ابھارا جائے

