Ayesha Zafar
Mississauga
لختِ جگر دے چکی ہوں رنگِ لہو میں ڈبو کر،
ارضِ مقدس میں استقامت سے کھڑی ہوں۔
تتلیاں بن چُکی ہیں شہیدوں کی روحیں جنّت کے باغوں کی!
بکھرے شیرازے پر شُکر گزار ہوں!
رضائے الٰہی کی خواہشمند ہوں۔
حیران ہوں اُمت مسلمہ خاموش کیوں ہے؟!؟
ہم تو ایک جسم کی مانند ہیں کچھ یوں یقیں ہے۔
ہم تو دے چُکے دنیا میں شہادتِ حق لا الہٰ الّلہ
القائمون، الصادقون، الشاہدون
دراصل سوچو! غور تو کرو
آزمائش تو اصل تمہاری ہے بھائیوں، بہنوں!
انسانیت کا سب سے بڑا امتحان ہے یہ!
جسم کیچڑ میں دھنسے ہیں، سردی جسموں کو چُھو رہی ہے،
مگر آنکھوں میں زندگی کی تڑپ ابھی باقی ہے۔
صبر کی ایسی مثال دے رہے ہیں،
گِر کر خود کو تھام رہے ہیں!
کیوں خاموش ہو زرا غور تو کرو!
کیا ایمان کے ساتھ عمل کی تاکید نہ کی گئی تھی؟
کیا روزِ قیامت انصاف کی حق کی وعید نہ کی گئی تھی؟
پس کیوں خاموش ہو؟ زرا غور تو کرو!

