Skip to content

علامہ اقبال اور کامل مسلمان کا تصور

  • by

شازیہ راشد 
Ajax ON

مفکر پاکستان، حکیم الامت شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ جن کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ میں آج جس پہلو پر اقبال کے کردار کو قلمبند کر رہی ہوں وہ ہے “اقبال اور کامل مسلمان کا تصور”
علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ عظیم مفکر و مدبر تھے، جنہوں نے اپنی فہم و فراست کو بروئے کار لاتے ہوئے مسلمانوں کو حیات نو کا پیغام دیا اور سوئی ہوئی امت کو خواب غفلت سے بیدار کیا۔
علامہ اقبال کو عالم اسلام کی پستی اور زبوں حالی کا شدت سے احساس تھا وہ مسلمانوں میں یقین محکم ،عمل پیہم ،محبت واتحاد کا جذبہ پیدا کرنے کے خواہش مند تھے۔مسلمانوں کی خستہ حالی، غربت، پسماندگی، تعلیم سے دوری اور ذات پات میں بٹے ہوئے معاشرے نے اقبال کی راتوں کی نیندیں اڑا دی تھیں وہ کہتے ہیں کہ:
✏فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں!
یوں تو سید بھی ہو،مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو،بتاو تو مسلمان بھی ہو؟

علامہ اقبال نے مسلمانوں کو ان کا شاندار ماضی یاد دلانے کی کوشش کی۔ نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک۔۔۔۔ مسلمانوں کو متحد اور ایک امت بنانے کی تگ و دو میں انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے پیغام دیا
✏اخوت اس کو کہتے کہ چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پیر وجوان بے تاب ہوجائے
شاعر مشرق نے مسلمانوں کو ان کے کھوئے ہوئے مقام کا احساس دلایا۔ ان کے نزدیک کامل مسلمان وہ ہے جو ایمان ،عمل ،علم ،عشق اور خودی کا پیکر ہو۔
علامہ اقبال کی نظر میں کامل مسلمان کی چند خصوصیات درج ذیل ہیں :
▪ خودی :
اقبال نے اپنی شاعری میں خودی پر بہت زور دیا ہے انہوں نے خودی کو انسان کی اصل قوت قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک وہی مسلمان کامل ہے جو اپنی خودی کو پہچانتا ہے ۔
✏خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
▪ ایمان و یقین :
ایک کامل مسلمان کے دل میں ایمان کی روشنی اور یقین کی پختگی ہوتی ہے۔ وہ مشکلات میں بھی اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور دنیاوی لالچ سے بے نیاز ہوتا ہے۔
▪ عمل و جہد مسلسل :
اقبال کے نظر میں مسلمان کا کام صرف عبادت میں مشغول رہنا نہیں بلکہ عمل پیہم ہے۔ وہ دنیا میں عدل، علم اور تعمیر سیرت کا پیامبر ہوتا ہے۔
✏عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
▪ عشق رسول :
کامل مسلمان کے دل میں پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سب سے بڑھ کر ہوتی ہے ان کے نزدیک عشق رسول ہی ایمان کی بنیاد ہے۔
✏کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
▪ آزادی و غیرت :
اقبال کے خیال میں مسلمان کو کسی کے سامنے جھکنا زیب نہیں دیتا وہ آزاد ،خودار، بااختیار اور باعزت زندگی گزارتا ہے۔
▪ امت مسلمہ کی خدمت :
اقبال کا نظریہ ہے جو کامل مسلمان ہوگا وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر پوری امت کے لیے فکر مند ہوتا ہے ۔ علامہ کا پیغام اجتماعی شعور اور امت کی بیداری پر مبنی ہے۔
✏ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تاب خاک کاشغر