سعدیہ شکیل
Hamilton
ایک اور رمضان ختم ہوا
لگا زندگی کا باب ختم ہوا
رخت سفر باندھ لیا
وقت کا ہاتھ تھام لیا
تیز قدموں سے چلنا ہے اب
رب سے ملا قات کاُوقت ہے اب
بخش دے گا وہ مجھے جہنم کی آگ سے
یہ میری امید اس کی رحمت ہو گی
قبر میں نور کر دے گا وہ میری
یہ میری امید اس کی رحمت ہو گی
اپنے عرش کے ساۓ تلے جگہ دے گا وہ مجھ کو
یہ میری امید اس کی رحمت ہو گی
سوالوں کے جوابوں میں مدد کرے گا وہ میری
یہ میری امید اس کی رحمت ہو گی
رب بن لی عندک بیت فی الجنتہ
یہ میری امید اس کی رحمت ہو گی
نبی سے میرے ملاقات ہو گی
یہ میری امید اس کی رحمت ہو گی
میری سب امیدیں پوری ہوں گی
کیوں کہ وہ کہتا ہے “میری رحمت ہر چیز پہ ہاوی ہو گی”

