ریشماں یسین
Mississauga
عَنْ عبدالله بن عباس رضي الله عنهما قَالَ رسول الله ﷺ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهُ ذَنْبٌ يَعْتَادُهُ الْفِينَةَ بَعْدَ الْفِينَةِ، أَوْ ذَنْبٌ هُوَ مُقِيمٌ عَلَيْهِ لَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُفَارِقَ الدُّنْيَا، إِنَّ الْمُؤْمِنَ خُلِقَ مُفَتَّنًا تَوَّابًا نَسَّاءً، إِذَا ذُكِّرَ ذَكَر.
[السلسلة الصحيحة: 2276]
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مومن آدمی سے کوئی نہ کوئی ایسا گناہ سرزد ہو جاتا ہے جس کو وہ وقتًا فوقتًا کرتا رہتا ہے یا کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جس پر وہ قائم رہتا ہے وہ اس کو نہیں چھوڑتا حتی کہ وہ دنیا چھوڑ جاتا ہے۔
ہم جتنی بھی کوشش کرلیں کبھی بھی 100%پرفیکٹ نہیں ہو سکتےکیونکہ ہم انسان ہے اور ہم سے غلطیاں ہوتی ہے اسی لئے خطا ہونا تو تعجب کی بات نہیں کیوں کہ انسان مجموعۂ خطا و نسیان ہے لیکن خطا کے بعد توبہ نہ کرنا اور خطا پر قائم رہنا یہ بات تعجب اور خسارہ کی ہے لہٰذاہم ان غلطیوں کو ندامت کے ساتھ تسلیم کرتے ہوۓ ڈپریشن ، مایوس ہونے کے بجاۓ توبہ کا راستہ کا اپنائیں،سچی توبہ اور آئندہ احتیاط کے ذریعے اللّہ تعالیٰ کی رحمت کے طلبگار ہو، کیونکہ اللّہ تعالیٰ کو علم ہے کہ انسان غلطی کرے گا اسی لئے اللّہ تعالیٰ کو وہ “گناہگار ” پسند ہے جو گناہ کرنے کے بعد سچی توبہ کرے۔اللّہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا “
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِی٘نَ”( سورہ البقرہ # ۲۲۲) کہ بے شک اللہ تعالی توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتاہے۔
جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے اور ان پر اصرار نہ کریں اللّہ تعالیٰ ایسے انسانوں سے محبت کرتا ہے ۔آیت بندے کو مایوسی سے بچاکر اللّہ کے قریب کرتی ہے جس سے گناہ نیکیوں میں بدل سکتےہیں ،گناہگاروں کو توبہ پر ابھارتی ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے اور محبت کرنے والا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا”(صحیح مسلم # ۲۷۵۹)
اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کرے، اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔
سب سے اچھا انسان وہ ہے جو غلطی کے بعد اللّہ کی طرف لوٹ آۓ ،دوبارہ گناہ نہ کرے بلکہ اپنی زندگی میں مسلسل ان سے بچنے کوشش کرتا رہے ۔مومن کو اس حال میں پیدا کیا گیا کہ وہ فتنوں میں گھرنے والا، توبہ کرنے والا اور بھولنے والا ہوتا ہے جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ وعظ و نصیحت قبول کرتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو گناہوں کی آلودگی سے پاک دیکھ کر پسند فرماتا ہے۔آج بھی ہمارے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے،اسی لئے مزید دیر کرنے کے بجاۓ اللّہ تعالیٰ سے توبہ کریں ،اللّہ تعالیٰ ہماری توبہ کو قبول فرماۓ آمین۔

