ناظمہ بنت عبدالرحمٰن
ملٹن
الحیات فی سبیل اللّٰہ أصعب من الممات فی سبیل اللّٰہ
ترجمہ:
اللہ کی راہ میں زندہ رہنا، اللہ کی راہ میں مرنے سے زیادہ مشکل ہے۔
قول کا مفہوم :
اس قول کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں زندگی گزارنا ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ انسان کو ہر وقت اپنے نفس، خواہشات اور دنیا کی آزمائشوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنا، گناہوں سے بچنا، صبر و استقامت کے ساتھ نیکی پر قائم رہنا اور دین کی خدمت کرنا آسان کام نہیں ہے۔
اگرچہ اللہ کی راہ میں شہادت ایک عظیم مرتبہ ہے، لیکن اس مقام تک پہنچنے سے پہلے ایک مؤمن کو اپنی پوری زندگی ایمان، تقویٰ اور صبر کے ساتھ گزارنی پڑتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں زندہ رہ کر دین پر ثابت قدم رہنا زیادہ مشکل ہے۔
اسی مفہوم کو ایک معروف مقولہ “سَيِّئَاتُ الأَبْرَارِ حَسَنَاتُ المُقَرَّبِينَ” سے بھی سمجھا جا سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ نیک لوگوں کی معمولی لغزشیں بھی اللہ کے مقرب بندوں کے معیار کے لحاظ سے بڑی سمجھی جاتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے قریب رہنے والے بندوں کے لیے اپنی زندگی کو ہر وقت پاکیزہ اور تقویٰ کے مطابق رکھنا کتنا بڑا اور مشکل کام ہے۔
سبق:
اس قول سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے، نیکی پر قائم رہنا چاہیے اور ہر حال میں صبر کرنا ہے۔ اصل مجاہدہ جب ہوتا ہے جب انسان کے آگے آزمائش کی گھڑیاں آتی ہیں- عبادت کرنے میں محنت ضرور لگتی ہے لیکن امتحان کی گھڑی میں پریشان کن حالات میں صبر و استقامت پر جم جانے سے وہ طاقت ملتی ہے جس کا عام حالات میں وہم و گمان نا ممکن ہے-

