عائشہ ندیم
ایسٹ ریجن
حج ،ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور قرآن بار بار ابراہیم علیہ السلام کی آزمائشوں کا تذکرہ کرتا ہے۔
*وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ ۔۔۔(البقرہ۔ 124)*
تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حج پر جانے والوں کی آزمائش نہ ہو۔ ہر ایک اپنے لیول پر آزمایا جاتا ہے۔ کسی کی آزمائش اس کی ذاتی کمزوری ہے اور کسی کی آزمائش اس کے ساتھیوں کی کمزوری ہے۔ بہرحال صبر کے ساتھ سب کو لے کر چلنا ہی حج کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔
مدینہ میں مسجد نبوی میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا *رحمت اللعالمین* ہونا نظر آتا ہے ہر طرف آپ کو یہی احساس ہوتا ہے کہ *وما ارسلنا ک الا رحمۃلعالمین*’ یہی احساس ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کس طرح سے ہواؤں میں فضاؤں میں رچی ہوئی ہے یہاں تک کہ وہاں کوئی مشکل محسوس ہی نہیں ہوتی۔
خانہ کعبہ میں آپ کو اللہ سبحانہ و تعالی کی صفات بکھری نظر آتی ہیں۔ جیسے جیسے آپ خانہ کعبہ کے نزدیک چلتے جاتے ہیں آپ کو اللہ تعالی کا *ارحم الراحمین* ہونا نظر آتا ہے۔ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ میرا ہر غم ہر دکھ درد تکلیف اس وقت ختم ہو گیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی رحمت کی چادر سے مجھے ڈھانپ لیا ہے۔ جیسے جیسے آپ کعبۃ اللہ کے نزدیک آتے جاتے ہیں کعبہ آپ کو بڑے سے بڑا نظر آتا ہے۔ اس وقت آپ کو اللہ سبحانہ و تعالی کی تمام تر صفات وہاں دکھائی دے رہی ہوتی ہیں کہ ہر طرف اللہ تعالی کی ہستی محیط ہے اور اللہ سبحانہ و تعالی، رب ذوالجلال والاکرام ہیں۔
حرم سے نکل کر اپنی گاڑیوں کے انتظار میں ادھر سے ادھر دوڑتے وجود یہ بات یاد دلاتے ہیں کہ روز محشر انسان کس طرح نفسی نفسی میں دوڑے جا رہے ہوں گے۔
*يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ﴾ (سورۃ القمر: 7)*
منی کا پہلا دن. سارا دن اپ دوڑ دھوپ کر رہے ہیں یہاں وہاں جا رہے ہیں۔ کچھ لازمی نہیں کہ آپ کیا کریں۔ بالکل ایسے جیسے کہ زندگی میں آپ کو چوائس دے دی گئی اب آپ جو چاہیں سو کریں آپ کی چوائس ہے چاہیں اپنے فرائض ادا کریں چاہیں تو صرف حقوق کا مطالبہ کرتے رہیں۔ آپ خواہ سو کر اپنا وقت گزاریں خواہ عبادت کر کے اپنا وقت گزاریں جو چاہے سو کریں لیکن لیٹنے کے لیے جو آپ کی ڈیزگنیٹڈ designated, پلیس place آپ کا سپاٹ spot ہے ۔وہ اتنا ہی ہے جس میں کہ صرف آپ کا جسم پورا آئے گا جس میں آپ سیدھے لیٹ سکتے ہیں۔ کتنا بھی مہنگے سے مہنگا آپ کا پیکج ہے، آپ کو جگہ لیمیٹڈ limited اتنی ہی ملے گی۔ ممکن ہے آپ کے لیے وہاں پہ صوفا بیڈ ہو، ممکن ہے اپ کے لیے کارپیٹ ہو یا ایک اوپن ہال ہو لیکن جو بھی ہے جگہ آپ کی اتنی ہی ہے جس میں کہ آپ سیدھے لیٹ سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح آپ کی قبر ہے، اس میں صرف اور صرف آپ کا جسم پورا آئے گا.
مزدلفہ کی رات آپ اپنے فرائض ادا کر کے حج کا دن یعنی وقوع عرفات پورا گزار کے، دعائیں مانگ کے، آئے ہیں اور اب آپکو لیٹنے کے لیے جگہ چاہیے۔ آپ کی جگہ! کھلے آسمان کے نیچے ہے۔ ہر طرف آپ کے آس پاس آگے پیچھے دائیں بائیں سفید لباس میں ملبوس لوگ بس بھاگے جا رہے ہیں، گویا ایسے، جیسےاپنی قبروں سے نکل کے مردے بھاگ رہے ہیں اور ان کی منزل صرف اور صرف کھلے آسمان کے نیچے وہ زمین ہے جس کے اوپر انہوں نے لیٹ جانا ہے۔ تاحد نگاہ صرف سفید لباس میں ملبوس ایک خلقت اپنے خالق کے حضور !
رمی جمرات آپ میدان میں کھڑے ہیں آپ پتھروں کے ستونوں کو کنکریاں مار رہے ہیں اور اپنی ہر برائی کا، اپنی ہر غلطی، کا اپنے ہر گناہ کا، الزام اس شیطان پر ڈال رہے ہیں۔ بالکل ایسے، جیسے قیامت کے دن بندے اپنے الزامات شیطان پر ڈالیں گے کہ اس نے ہمیں ورغلایا۔ اس دن شیطان یہی کہے گا *میں نے تو صرف اور صرف وسوسہ ڈالا تم لوگوں نے خود ہی کیا جو کیا ۔وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ ( سورة إبراهيم : 22)*
آپ کنکریاں یہاں مار رہے ہیں اور اپنے الزامات شیطان پر ڈال دیں لیکن شیطان آگے سے یہی کہہ رہا ہوگا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا ۔ *مارنا ہے تو اپنے نفس کو مارو. سدھارنے کے لائق تو ہمارا نفس ہی ہے. قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا (سورة الشمس :9)*
منی کی پانچ دن آپ بس چلتے ہی چلے جا رہے ہیں چلتے ہی چلے جا رہے ہیں آپ کو نہیں پتہ کہ آپ کی منزل کدھر ہے آپ اپنے میپ map کھولتے ہیں تو میپ بھی آپ کو بتاتا ہے کہ بہت زیادہ رکاوٹیں ہیں آپ کو بس چلتے ہی جانا ہے جہاں کہیں آپ کو ایک یونیفارم والا بندہ نظر آتا ہے، اس سے پوچھتے ہیں مجھے کہاں جانا ہے تو کہتا ہے وہاں آگے چلتے چلے جائیں اور آپ چلتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ بغیر رکے۔ بغیر تھمے۔ سوچ کے دھارے ہمیں *روز محشر* کی یاد دلاتے ہیں ۔اس دن سبھی لوگ قبروں سے نکل کر بھاگے چلے جا رہے ہوں گے، کسی کو کچھ ہوش ہی نہیں ہوگا کہ کون میرے دائیں بائیں، آگے پیچھے ہے۔ کس نیشنلٹی nationality کے لوگ ہیں۔ *حدیث شریف میں آتا ہے قیامت کے دن امتیں گروہ در گروہ چلیں گی ۔ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہو گی اور ( انبیاء سے) کہے گی کہ اے فلاں ہماری سفارش کرو مگر وہ سب ہی انکار کر دیں گے آخر شفاعت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو ہی وہ دن ہے جب اللہ تعالی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مقام محمود عطا فرمائے گا۔ (صحیح بخاری)*۔ روز محشر انبیاء علیہم السلام سے لوگ درخواستیں کر رہے ہوں گے کہ آپ ہماری سفارش کریں۔ اللہ سبحانہ و تعالی کے حضور ہمارے لئے درخواست کریں تاکہ عدالت لگائی جا سکے ہمیں کسی جگہ رکنے کی جگہ مل سکے۔ گرمی کی شدت ایسی ہی ہو گی بلکہ اس بھی زیادہ ۔سورج سوا نیزہ پر ہو گا۔ لوگ گرمی اور شرمندگی کے پسینوں میں نہائے ہوئے ہونگے۔ اللہ اس دن پردہ رکھنا۔بس جیسے آج منزل کی تلاش میں بھاگے جا رہے ہیں اس دن بھی منزل مقصود پر سرخرو کر دیجیۓ گا ۔
حج کا ایک ایک لمحہ آپ کو انہی آیات کی طرف لے کے جاتا ہے جو کہ قران اور احادیث میں آپ کو قیامت کے مناظر بتائے گئے ہیں۔ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہوتی *يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ﴿٣٤﴾ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ ﴿٣٥﴾ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ ﴿٣٦﴾ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ ﴿٣٧﴾ (سورة عبس :34 -37)*
حج کے پانچ دنوں میں تو بالکل کسی کی پرواہ نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی فرد کی کسی چیز کی اور اس وقت انسان کو یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ میری ضرورتیں کس قدر محدود ہیں اور میں نے کس قدر اپنی ضرورتوں کو پھیلا رکھا ہے شاید یہی ہے تقوی کا زاد راہ۔
*وَ تَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰی ۫ ( سورہ بقرہ:197)*
جس لمحے آپ یہ بات سوچتے ہیں کہ اب میں نے یہاں سے چلے جانا ہے اس وقت آپ کو اللہ تعالی کی محبت کا احساس ہوتا ہے کہ کیسے اللہ تعالی نے آپ کو اپنے گھر میں بلایا آپ اللہ تعالی کے مہمان بنے اور پھر اپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اسی طرح سے ایک دن اللہ سبحانہ و تعالی جنت میں بھی ہمیں اپنا مہمان بنائیں گے انشاءاللہ. *لَٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا نُزُلًا مِّنْ عِندِ اللَّهِ ۗ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ ﴿١٩٨﴾ (سورة آل عمران : 198)*
الوداع اے شہر مکہ، میرے نبی پاک کو تجھ سے محبت تھی تیرے درو دیوار بدل گئے تیرے چٹیل پہاڑ آج بھی قائم ہیں۔ زمانے کے گواہ ہیں۔ اے رب میرے حق میں بھی یہ گواہی لکھ لینا!
جدہ ایئرپورٹ پر لکھا تھا *حج مبرور و سعی مشکور* پڑھ کے احساس ہوا کہ انشاء اللہ۔ اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے حج کو مبرور فرمائے اور کوشس کو قبول فرمائے۔ آمین ۔یہی تو وہ چیز ہے جس کے لیے ہم ساری زندگی کوشش کرتے ہیں۔اب ہمارے عمل یہ بات بتائیں گے کہ ہمارا حج کتنا مبرور اور ہماری کوشش کتنی مشکور ہوئی اور یہی تو ہمارے لیے جنت کی وہ کنجی ہے جس کی تڑپ جس کی خواہش جس کی تلاش ہم ساری عمر کرتے رہتے ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کو حج کی سعادت نصیب فرمائے اور جنہوں نے حج کیے ہیں انہیں اس چیز کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے. آمین یاربی آمین۔
