Skip to content

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے

  • by

بشریٰ ودود

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے

تو اس سے کہنا شعار لکھے
محبتوں کو شمار کرکے
صداقتوں کا وقار لکھ دے
جو اخلاص کی زبان ہو
تو لے کے اس سے ثبات لکھ دے
وفا کے ذرے جو چُن سکے تو
سماعتوں سے اُدھار لے کر
وہ اپنے ماضی کا حال لکھ دے

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے

سنبھال رکھے جفاء کے پتھر
وفا کے شیشوں میں بال لکھ دے
جو کوئی واپس پلٹ سکے تو
حقیقتوں کو سراب لکھ دے
وہ خدمتیں مستعار لے کر
دعاؤں کو بار بار لکھ دے

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے

وہ گزرے لمحوں کو
خواب لکھ دے، شباب لکھ دے، سراب لکھ دے
میری طرف سے تم اس سے کہنا
محبتوں کا حساب لکھ دے
امید اُبھرے تو رُخ بدل لے
وہ ہر حقیقت سے منہ چُرا کر سراب لکھ دے، عذاب لکھ دے
جو زندگی کے تمام لمحے گزر چکے ہیں
اُنھیں بلائے، اور ہو سکے تو حساب لکھ دے

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے