Skip to content

کتاب اپنی تربیت کیسے کریں

  • by

ثمینہ ضیاء 

Oshawa

مشہور داعی دین اور مفکر خرم مراد صاحب کی یہ کتاب خود سازی اور شخصی تربیت کے موضوع پر ایک عملی راہنما ہے۔ انسان کے اندرونی فکروں اور اصلاح نفس کے پورے فلسفے کو نہایت گہرائی سے بیان کرتی ہے ۔یہ صرف چند نصیحتیں نہیں بلکہ زندگی بھر کے مسلسل سفر کی رہنمائی ہے۔
تربیت کے بنیادی اقدام کو خرم مراد صاحب نے اصولوں کی شکل میں انتہائی آسان پیرائے میں مرتب کیا ہے لکھتے ہیں
مقصد کا تعین سب سے پہلا قدم ھے۔
دوسرا قدم خود احتسابی بیان کرتے ہیں
تیسرا قدم توبہ کے بعد گناہوں سے پرہیز
چوتھا قدم صبر اور برداشت اور
پانچواں قدم تسلسل سے عمل کرنا۔۔۔۔
خرم مراد صاحب نے دلائل سے ان باتوں کو واضح کیا ہے ۔
مصنف فرماتے ہیں کہ اللہ نے زندگی کو امتحان ضرور بنایا ہے مگر اس امتحان کے تمام وسائل بھی عطا کیے ہیں انسان کے اندر خیر کی فطرت رکھی ہے۔ چونکہ دل فطری طور پر بھلائی کی طرف مائل ہوتا ہے اس لیے تربیت کا راستہ انسان کی طاقت سے باہر نہیں۔ ہر دن ہر روز آزمائش، ہر گزرتا لمحہ دراصل تربیت کا حصہ ہے۔ اگر انسان شکر ،صبر، عدل اور سچائی کے ساتھ ان مواقع سے گزرے تو وہی حقیقی تربیت کا حاصل بن جائے ۔
جو چیز ہم سے مانگی گئی ہے وہ ہماری استطاعت کے مطابق ہے۔
کتاب کا بنیادی پیغام ھے کہ
تربیت تب ہی ممکن ہے جب انسان خود نیت کرے اور کوشش کرے۔
کوئی دوسرا آپ کی جگہ تربیت نہیں کر سکتا۔ صرف سننے یا سیکھنے سے کچھ نہیں بنتا، جب تک عمل نہ کیا جائے۔
مزید برآں وہ تفصیل سے لکھتے ہیں کہ شخصی تربیت میں دو بنیادی چیزیں شامل ہیں ۔
نیت کرنا ہے اور مقصد کو محبوب بنا کر اپنی اصلاح کا فیصلہ کرنا ھے ۔
اس کے بعد مرحلہ آتا ھے سعی کا یعنی کوشش قدم بہ قدم آگے بڑھنا ہے ، چاہے آہستہ ہی کیوں نہ ہو ۔
محنت کے بغیر تربیت محض خواب ہے
محترم خرم مراد کے نزدیک مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے۔ جب انسان ہار مان لیتا ہے تو اللہ تربیت کا دروازہ بند کر دیتا ہے ارشادباری اللہ ھے اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا سورۃ البقرہ آیت 286
یاد رکھیں اللہ آپ سے آپ کی استطاعت سے زیادہ کچھ نہیں مانگتا ۔
جو ارادہ کر لے، مخلص ہو جائے، اور قدم اٹھائے — اللہ اس کے لیے راہیں آسان کر دیتا ہے۔
آخر میں مصنف کہتے ہیں کہ تربیت کوئی منزل نہیں بلکہ سفر ہے یہ دل کا ارتقا ہے جو کبھی نہیں رکنا چاہیے جب انسان کا مقصد واضح نیت خالص اور کوشش مسلسل ہو تو وہ اللہ کے وعدے کو سچا پاتا ہے ۔ تربیت اس بات کا نام نہیں کہ انسان گناہوں سے پاک ہو جائے بلکہ یہ کہ وہ اللہ کی طرف لوٹنے والا بن جائے جو ہر بار اٹھتا ہے ہر بار نیت تازہ کرتا ہے اور رجوع کرتا ہے ۔
خلاصہ کلام۔۔۔۔۔
زندگی کی تربیت کا آغاز فیصلہ اور نیت ھے ۔ لہٰذا
آج فیصلہ کریں — نیت کریں — اور پہلا قدم اٹھائیں۔ یہی حقیقی تربیت ہے اور یہی جنت کا راستہ ہے۔