Skip to content

پرفیکٹ پیرنٹ کا تصور

  • by

نیر تاباں 

Calgary

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم اپنے بچوں سے اتنا پیار کرتے ہیں تو پھر انہیں ڈانٹ کیوں دیتے ہیں؟

دراصل ہمارے اندر فیڈ ہوا ہے کہ ڈانٹ تربیت کا حصہ ہے اور اگر بچے کو روک ٹوک نہ کی جائے تو وہ “بگڑ جائے گا” مگر کبھی یہ سوچا ہے کہ آیا وہ ڈانٹنا واقعی تربیت کرنے کی خاطر ہے یا اپنی فرسٹریشن نکالنے کا طریقہ؟

ہم سب ایک خاص “اچھے بچے” کے تصور کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔ یہ اچھا بچہ چیزیں نہیں بکھیرتا۔ بکھیر دے تو ایک بار کہنے پر سنبھال دیتا ہے۔ وقت پر ہوم ورک کرتا ہے، بڑوں کی بات مانتا ہے۔ بہن بھائیوں سے لڑائی نہیں کرتا۔

اب جب ہم والدین بنے ہیں، ہم وہ پرفیکٹ بچہ اپنی اولاد میں تلاشتے ہیں۔ کچھ معاشرے کا پریشر بھی ہے۔ بس ایسا اچھا بچہ ہو جسے دیکھ کر لوگ کہیں:
“واہ، ماشاءاللہ کیا تمیزدار بچہ ہے!”

یہ معاشرتی دباؤ اکثر ہمیں بےچین کر دیتا ہے۔بچے کا شور، ضد، اچھل کود، ٹِک کر ہوم ورک نہ کرنا، نمبر کم لانا ہمیں اپنی ناکامی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس وقت جو بچے پر ہماری ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہے، وہ ہم “تربیت” کے نام پر دراصل اپنی شرمندگی اور بےبسی کا غصہ بچے پر نکال رہے ہوتے ہیں۔

وہ جو بچہ ہونے سے پہلے ہم نے اپنے لئے ایک پرفیکٹ پیرنٹ کا تصور پال رکھا تھا، اور اس پرفیکٹ پیرنٹ کا بچہ بھی کمال کا پرفیکٹ تھا، وہ خاکہ خاک میں مل چکا ہے۔ جیتا جاگتا بچہ اپنی شخصیت کے ساتھ، کچھ ہمارے اپنے پیٹرنز، کچھ آس پاس کا ماحول۔ نتیجتاً پرفیکشن کا بلبلہ پھوٹ گیا۔

ہوش آیا تو پتہ چلا زندگی ویسی حسین نہیں تھی جیسی خیال کی تھی۔ نیند کی کمی، گھریلو کام، معاشی دباؤ، سسرال کی توقعات۔۔۔ ایسے میں بچہ رو پڑے یا بات نہ مانے تو پھٹ پڑتے ہیں ہم۔

ایک کام یہ بھی ہوا کہ پیرنٹنگ پر لکھنے والے لکھتے تو بہت خلوص سے ہیں کہ والدین چھوٹی چھوٹی غلطیاں سدھار سکیں۔ لیکن پڑھنے والوں کو کبھی کبھی یہ مشورے موٹیویشن سے زیادہ گلٹ دے دیتے ہیں۔ جب ہم ویسا نہیں کر پاتے جیسا تحریر میں بتایا جائے، ہم خود کو ناکام والدین سمجھنے لگتے ہیں۔

اور جب انسان خود کو ناکام سمجھے تو چھوٹی باتیں بھی غصہ دلاتی ہیں۔ بچے کی ضد ہمارا منہ چڑاتی ہے کہ ہم “پرفیکٹ پیرنٹ” نہیں۔ پھر ہم اس غصے کو دوبارہ بچے پر ہی اُتارتے ہیں۔ یوں یہ ایک دائرے کا سفر بن جاتا ہے۔تھکن، گلٹ، بچے پر غصہ، پھر مزید گلٹ، مزید غصہ۔۔۔۔

تو پھر کیا کریں؟

بچوں کو ڈانٹنے سے پہلے بس ایک لمحہ رک جائیں اور خود سے پوچھیں:
“یہ ڈانٹ واقعی تربیت کے لیے ہے، یا میرے اندر کچھ اور چل رہا ہے؟”

یہ سوال چھوٹا ہے، مگر تربیت کا زاویہ بدل دیتا ہے کیونکہ اکثر بچے کو ڈانٹنے کے بجائے خود کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک چیز یہ بھی خود کو بار بار یاد دلانی ہے کہ کمزوروں سے حسنِ سلوک کا حکم ہے اور ہم سے اس پر باز پرس ہے۔ تو بچے کو بغیر وجہ ڈانٹیں نہیں۔ غلط کام سے منع کریں، سمجھائیں، باؤنڈریز بنائیں بھی اور ان پر عمل بھی کروائیں، لیکن لٹھ ہاتھ میں لے کر نہیں۔

آپ سے یہ بھی کہنا ہے کہ تھکن، ناکامی، غصہ سب اس زندگی کا حصہ ہے۔ خود کو ایک عام انسان کے طور پر قبول کریں۔ پرفیکشن کی دوڑ کا حصہ نہ بنیں۔ اپنی طرف سے کوشش جاری رکھیں لیکن وہ کوشش نہیں جو سٹریس دینے لگے، نتیجتاً تھکن اور الجھن۔ وہ کوشش جس میں اللہ کی رضا شامل ہو۔