Sadia Furrukh,
Edmonton
جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی، اُنہیں پہچاننے سے پہلے، جبکہ وہ بادشاہ کے لباس میں تھے، اُن کی توجہ اور رحم حاصل کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے کہا:
ہم ایک ناقص، کم قیمت اور نہ بکنے والا سامان لے کر آئے ہیں۔
(فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ)
انہوں نے صرف یہ نہیں کہا کہ ہمیں غلہ دے دیں، بلکہ کہا: ہمیں پورا اور مکمل ناپ کر دیں۔
(وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا)اور ہم پہ صدقہ کیجیے ۔
پھر پورا دینے کے بعد مزید احسان اور اضافہ بھی مانگا۔
تب یوسف علیہ السلام کو ان پر رحم آیا اور ان کا دل پسیج گیا۔
یہ انسان کی انسان پر رحمت کی مثال ہے۔
اور تم، جب اس مبارک مہینے کے اختتام پر ہو، تو یوسف کے رب سے یوں کہو:
اے میرے رب!
ہم تیرے پاس تھوڑا، ناقص اور عیب دار عمل لے کر آئے ہیں۔
ہم ایسے روزے لے کر آئے ہیں جو کامل نہیں،
ایسی نمازیں جو بہت کم ہیں،
ایسی کوشش جو کمزور ہے،
اور ایسا عمل جو گناہوں سے ملا ہوا ہے۔
اے ہمارے رب!
ہم اس مہینے میں کوئی ایسا عمل ساتھ نہیں لائے جس پر ہمیں بھروسا ہو۔
ہم ایسی چیز لے کر آئے ہیں جس کا حق تو یہ تھا کہ اسے رد کر دیا جائے اور قبول نہ کیا جائے۔
ہم خالی ہاتھ آئے ہیں، ہمارے پاس کوئی قیمت نہیں،
ہمارے ہاتھ ایسے عمل سے خالی ہیں جو چہروں کو روشن کر دے،
اور ہمارے دامن میں بہت ہی تھوڑا سا ہے۔
پس اے رب!
اپنے فضل سے ہمیں پورا اجر عطا فرما،
اور اپنے بندوں کی طرح ہم پر بھی رحم فرما۔
ہمارے تھوڑے سے عمل کو اپنی سخاوت اور کرم سے قبول فرما۔

