Maria Ahmed
Mississauga
سیرت النبی ﷺ پڑھتے ہوئے، جب آپ بیعت عقبہ اول کے بعد حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ کی بطور سفیر تعیناتی پر غور کرتے ہیں، تو نبی کریم ﷺ کی بصیرت افروز قیادت، حکمت نبوت کی چند جھلکیاں نظر آتی ہیں ۔۔۔
نوجوان: کچھ الگ کرنے کا ، کر دکھانے کا جذبہ، پیروں سے بڑھ کرخوش ذوقی: صاحب ثروت خاندان سے تعلق، رہن سہن میں نفاست، نیت کی سیری اور غنا عطا کرتی ہے، مرعوبیت کے پیمانے مختلف ہوا کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر؛
حب الہی و عشق محمدﷺ: اللہ و نبی کریم ﷺکی محبت میں شدید تر ہیں، خاندان کی ترغیبات و والدہ کی تنبیہات، حق پہچاننے کے بعد آڑے نہیں آپاتیں ابھی علم کے اعلی مدارج نہ طے کیے ہوں گے، لیکن یقینا اخلاص و محبت کے پیمانے چھلکے جاتے ہوں گے، یثرب والوں کے لیے دین اسلام کا تعارف آپ بنے، نبی کریم ﷺسے محبت لوگوں کے دلوں میں ٹرانسفر آپ ہی سے ہوئی کہ جب اگلے برس، متعدد انصار ان گھاٹیوں میں، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں خفیہ ملاقات کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، تو نہ اہل مکہ کے رعب سے گھبراتے ہیں نہ ہی اہل ایمان کی دگرگوں حالت سے پست حوصلہ ہوتے ہیں۔۔۔ بلکہ اولین ملاقات میں ہی وہ بار اٹھانے کو تیار ہوجاتے ہیں، جس کی نظیر نہیں ملتی، غیر مشروط حمایت کا اعلان، ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی، کہ بس یہ شرف اہل یثرب کو حاصل ہوجائے۔۔۔ یہ تعلق، یہ ربط۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔ بے شک اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ رحمت ہے پر زمینی اسباب کو ذہن میں لائیے تو سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ نبی الرحمتﷺ سے متعارف کروانے والے کے اپنے دل کی سچائی ، اخلاص و تڑپ یقینا منتقل ہوئی ہے۔۔۔
جان لیجیے۔۔۔
کہ نہ صرف اپنی اولاد ، بلکہ اہل عالم کا آپ کے دین اور آپ کے نبی کریم ﷺ سے پہلا تعارف، آپ خود ہیں۔۔۔ اس ذمہ داری کو محسوس کیجیے، اس کی نزاکت کا احساس اپنے دل میں بیدار کیجیے اللہ ہمیں اس ذمہ داری کوسمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اس کی ادائیگی میں ہمارے مددگار ہوجائیں
اللہم آمین

