ماریہ علی احمد
مسسی ساگا
کہتے ہیں کہ جس سے محبت ہو، انسان اس کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔۔۔
چائے سے محبت ہو، تو اس کا کپ دیکھتے ہی آنکھوں میں چمک آجاتی ہے،
آئس کریم کے متوالوں کو ٹھنڈے موسم میں بھی آئس کریم مزہ دیتی ہے،
شاپنگ کی شوقین خواتین کو، دکھتے بدن کے ساتھ بھی شاپنگ مال میں چھوڑ آئیے۔۔۔ چاق و چوبند ہوجائیں گی۔۔۔
چہرے مہرے، انداز، جوش۔۔۔ سب ہی پتہ دینے لگتے ہیں محبت کا
بچوں سے محبت ہو، تو انداز میں ، خیال میں نرمی خود بخود جھلکنے لگتی ہے،
زوج سے محبت ہو، تو گھر کی تمام روٹین ہی ان کی پسند کے مطابق سیٹ کردی جاتی ہے،
اماں ابا سے محبت کا اظہار۔۔۔ ان کے آرام کا خیال رکھ کر کیا جاتا ہے،
دوستوں سے محبت، مشترکہ مشغولیات کے ذکر، missing youکے پیغامات سے ظاہر ہوجاتی ہے۔۔۔
پھر آخر اللہ و رسول کریم (ص) سے ہماری محبتیں، اتنی asympotomaticکیوں ہیں؟؟؟
نہ آواز، نہ انداز، نہ کردار، نہ اطوار۔۔۔ کہیں سے بھی اظہار نہ ہو اور مصر ہوں کہ بھئی ہمارے دل میں تو عشق خدا و رسول (ص)بستا ہے، ہم دکھاوا نہیں کرتے۔۔۔ یہ تو ہمارا اور ہمارے رب کا معاملہ ہے۔۔۔
بے شک معاملہ رب اور بندے کا ہی ہے، لیکن جب محبت راسخ ہو، تو اعضاء و جوارح خود بخود گواہی دینے لگتے ہیں۔۔۔
سوچیے، جانچیے۔۔۔ چھوٹا سا وائرس تک اپنے انفیکشن کے signs & symptomsدیتا ہے، جسم کے نظام میں اس کے مطابق تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں، تو ہماری محبتیں اتنی بے عمل کیونکر ہیں۔۔۔؟؟؟
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ
ترجمہ:
اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور اُس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسا عمل جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔
اے اللہ! اپنی محبت کو میرے نزدیک میری جان، میرے اہل و عیال، اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے
اللہم آمین

