Skip to content

لیلتہ القدر

  • by

ریشماں یسین۔

مسی ساگا

رمضان المبارک کے مہینے کو سال کے باقی مہینوں میں ایک خصوصی مقام حاصل ہے۔ رمضان کے آخری دس دنوں یعنی (آخری عشرہ) کے فضائل اور بھی بہت زیادہ ہیں ،اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت، شب بیداری ذکر وفکر میں بہت زیادہ منہمک ہوجاتے تھے۔اس آخری عشرہ کی سب سے اہم فضیلت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی سورہ ہے، جو ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔ اللّہ تعالیٰ کا ارشاد۔
رمضان وہ مہنیہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا۔(سورہ البقرہ #۱۸۵)
ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں نازل فرمایا ہے”۔ ( سورہ الدخان #۳)
*یہ رات کیوں عطا ہوئی* ؟
اس کے حصول کا سب سے اہم سبب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس امت پر شفقت اور غمخواری ہے۔
موطاامام مالک میں ہے
جب نبی کریم کو سابق لوگوں کی عمروں پر آگاہ فرمایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمر کو کم دیکھتے ہوئے یہ خیال فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی کم عمر میں سابقہ امتوں کے برابر عمل کیسے کر سکیں گے؟(پس) اللّہ تعالیٰ نے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر عطا فرما دی‘ جو ہزار مہینے سے افضل ہے۔
(موطا امام مالک‘ 1: 319‘ کتاب الصیام‘باب ماجاء فی لیلة القدر‘ رقم حدیث: 15)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا .
ترجمہ: جس شخص نے شب قدر میں اجر و ثواب کی امید سے عبادت کی‘ اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔( بخاری# 1910)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہمہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا “ یا رسول اللّہ !اگر مجھے شب قدر کے بارے میں علم ہوجائے تو میں اس میں کیا عمل کروں ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا پڑھو
اللهم انک عفو تحب العفوفاعف عنی ( الترمزی #3822 )
*یااللہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی چاہنے والے کو پسند کرتا ہے مجھے بھی معاف فرمادے*۔لیلتہ القدر کو پوشیدہ رکھنے کی حکمت جیسے بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کے باعث بہت سی اہم چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ رکھا ہے۔
امام رازی رح تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ
*اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کو عبادت و اطاعت میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں۔اس نے اپنے غصہ کو گناہوں میں مخفی (پوشیدہ) رکھا ہے تاکہ لوگ ہر قسم کے گناہوں سے بچیں۔اپنے اولیاء کو مومنوں میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ سب ایمان والوں کی تعظیم کریں۔اسم اعظم کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ اللّہ تعالیٰ کے ہر نام مبارک کی تعظیم کریں ۔صلوۃ الوسطی (درمیانی نماز) کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ سب نمازوں کی حفاظت کریں۔موت کے وقت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ہر وقت خدا سے ڈرتے رہیں۔توبہ کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ جس طرح ممکن ہو، توبہ کرتے رہیں۔ایسے ہی شب قدر کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں*۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ؐ نے مسلمانوں کو بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے کہ مسلمان اس رات کواللّہ تعالیٰ کی عبادت ، ذکر وتلاوت میں گزاریں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اسی مبارک رات کی تلاش کے لئے اعتکاف فرماتے تھے ۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس محبوب سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آخری عشرہ میں مسجدوں میں اعتکاف کا خصوصی اہتمام کریں۔
ہم اپنی زندگی کے دن رات ایک ایسے فتنوں کے دور میں گزار رہے ہیں کہ دنیا کی قومیں ہم پر اس طرح ٹوٹ پڑی ہیں جس طرح بھوکے دسترخوان کے اوپر ٹوٹتے ہیں ۔ہم ساری دنیا میں ذلت ورسوائی کا شکار ہو رہے ہیں اس کے باوجود ہم اپنا محاسبہ نہیں کرتے نہ ہی ہم اللّہ کے حضور سجدہ ریز ہو کراپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں اور نہ ہی امر بالمعروف کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم رمضان المبارک کے ان قیمتی لمحات کو ضائع کئے بغیر اپنا ٹوٹا ہوا رابطہ اللّہ تعالیٰ سے دوبارہ جوڑیں، کثرت سے توبہ استغفار کریں ۔ندامت ، پشیمانی اور شرمندگی کے آنسوؤں سے اپنے رب کو راضی کریں اور اس کی رحمت کے امیدوار بن جائیں ۔
لیلتہ القر بخشش،مغفرت،توبہ ،استغفار ، ناامیدی اور مایوسی کو ختم کرنے والی رات ہے ۔اللّہ سے ناامیدی کفر کے مترادف ہے ۔ بندہ توبۃ النصوح یعنی سچے دل سے توبہ کریں تو یہ سچی توبہ گناہوں کی سیاہی کو دھو دیتی ہے۔
اللّہ تعالیٰ ہم سب کو شب قدر کی اس عظیم نعمت کا فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *