Skip to content

قران کا چیلنج اور اس کی معجزانہ حیثیت

  • by

ثمینہ ضیاء 
اوشوا سٹی ۔

اللہ تعالی نے قران میں کافروں کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ اگر تمہیں اس قران کے اللہ کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے تو پھر تم سب مل کر اس جیسی ایک ہی سورہ بنا کر دکھا دو ،حقیقت خود تم پر واضح ہو جائے گی۔ قران نے اس قسم کی چیلنج کو چار مقامات پر اور بھی بیان کیا ہے۔ سورہ یونس کی آیت نمبر 14 سورہ ہود، آیت نمبر 13 سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 88 اور سورہ طور آیت نمبر 34 ۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا جواب نہ اس دور کے لوگوں کو میسر آ سکا اور نہ آج تک اس کا جواب کوئی دے سکا۔ انشاءاللہ آئندہ تاقیامت اس چیلنج کی حیثیت اپنی جگہ برقرار رہے گی ۔
اللہ کا دستور انبیاء کرام کو معجزہ دینے میں کیا تھا
اللہ تعالی کا دستور یہ ہے کہ انبیاء کرام کو ایسی چیز بطور معجزہ دی جاتی ہے جس کی اس زمانے میں دھوم مچی ہوئی ہو۔ موسی علیہ السلام کے زمانے میں ساحری یعنی جادوگری اپنی انتہائی بلندی پر پہنچی ہوئی تھی تو اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو ایسے معجزات عطاء کیے جن کے آگے فرعون کے بڑے بڑے جادوگر سجدے زیر ہو گئے ۔ عیسی علیہ السلام کے زمانے میں طب اپنی انتہائی بلندیوں کو پہنچی ہوئی تھی۔ بقراط ،ارسطالیس، لقمان، جالینوس جیسے حکماء کا ڈنکا بجتا تھا تو اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کو ایسے معجزات عطا کیے جو ان حکماء کی دسترس سے ماورا تھے۔ بھلا کون سا حکیم مردوں کو زندہ کر سکتا تھا۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں عربی زبان کی فصاحت و بلاغت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے شعراء میں باہمی مقابلے چلتے رہتے تھے۔ جس شاعر کے کلام کو بہترین قرار دیا جاتا ، اس کا کلام کعبہ کے دروازے پر لٹکا دیا جاتا تھا بطور اعزاز ! ایسے ہی شعراء، ادیبوں اور خطیبوں کو اللہ تعالی نے قرآن میں چیلنج کیا اور فرمایا کہ اپنے سب مددگاروں ، جنوں، انسانوں یا اپنے دیوتاؤں اور معبودوں سب کی مدد لے کر اس قران جیسی ایک سورہ ہی بنا دو۔ کوشش تو کی گئی لیکن اکارد ہی گئی اور یہ سب لوگ ایسا کلام پیش کرنے پر عاجز ہی رہے ۔ قران حکیم کا اعجاز صرف فصاحت و بلاغت تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قران کے مضامین کے اندر ایک ہماگیر جہت ایک سوتی آہنگ، ایک شاعرانہ ترنم کی خوبصورتی بھی ہے۔ یہی نہیں بلکہ تاریخی حقائق و واقعات کا ایک جہاں آباد ہے ۔عالم غیب اور مستقبل کی پیشنگوئی بھی ہے ۔سائنس اور تحقیق کی اطلاعات بھی درست پیرائے میں موجود ہیں ۔انسان انگشت بدنداں ہے کہ یہ سب آج سے پندرہ سو سال پہلے قرآن میں بیان ہوا ۔
قران کے نمایاں اور امتیازی پہلو۔
1-پہلے انبیاء کو جتنے معجزات عطا کیے گئے وہ سب وقتی اور عارضی تھے کسی نے دیکھے اور کسی نے صرف سنے تھے۔ مگر قران کو سب دیکھ سکتے ہیں ،جس وقت نازل ہوا اس وقت سے لے کر قیامت تک۔ اس لحاظ سے یہ ایک زندہ و جاوید کتاب ہے اور ایک لازوال معجزہ ہونے کی دلیل بھی۔
2-اس کی اس اعجازی حیثیت صرف یہی نہیں ہے کہ اس دور کے جو فلاسفہ، فصحاء اور ادیب نے اس کلام کو پہچانا اور مانا بلکہ آج دن تک اس کی نظیر ملنا مشکل ہے ۔اتنا زمانہ گزرنے اور آج اگر عربی زبان اپنی اصل حالت میں موجود ہے تو یہ قرآن ہی کا اعجاز ہے ۔
3 -قران کی اعجازی حیثیت کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ یہ اس ہستی کی زبان سے ادا ہوا ہے جو نبی امی تھے ۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت و بلاغت تو درکنار لکھنا پڑھنا تک نہ جانتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت سے پہلے کی زبان عام امی لوگوں کی جیسی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے پہلے عبادت گزاری سے دلچسپی ضرور تھی مگر عربی ادب سے نا آشنائی تھی ۔
4۔قران کے معجزات میں سے یہ بھی ایک اہم معجزہ ہے کہ قران میں دلائل بہت سادہ اور عام فہم ہیں۔خواہ یہ دلائل توحید پر ہوں، اخرت کی تیاری کے بارے میں ہوں یا زندگی اور موت کی حقیقت پر مبنی ۔ قران کی زبان سادہ اور عام مشاہدے کے مطابق ہے، لہذا قران کو سمجھنے میں کسی کو بھی کوئی دشواری پیش نہیں آتی ہے ۔لہذا اس سے اونٹوں کو چرانے والے عرب بھی اسی طرح لطف اندوز ہوتے جس طرح اس وقت کے ادیب اور فصاح لطف اندوز ہوتے تھے۔ جب “فاصدع بما تؤمر” کے الفاظ نازل ہوئے تو ایک اعرابی سجدے میں گر پڑا اور کہنے لگا میں اس کی فصاحت کو سجدہ کرتا ہوں۔ جب سورہ کوثر کی تین مختصر سی آیات نازل ہوئیں تو اسے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے بیت اللہ میں جا کر لٹکایا جہاں معروف عرب شعراء کا کلام لٹکایا جاتا تھا۔ سورہ کوثر کی آیات پڑھنے کے بعد اس کے نیچے کسی نے لکھ دیا کہ “ما هذا قول البشر”۔(یہ کسی بشر کا قول نہیں ) غرض ایسے واقعات بے شمار ہیں اور غالبا اس وجہ سے کفار قران کو سحر مبین کہا کرتے تھے۔
5۔ قران کی حکمت عملی یہ ہے کہ اس کے تمام تر احکام اسکے پیش کردہ نظریے کے مطابق ہیں اور قابل عمل بھی، خواہ وہ انفرادی حیثیت رکھتا ہو یا معاشرتی معاملات سے متعلق ہو ۔عبادات سے ہو یا شرعی احکامات سے ہو یا معاشی احکام۔ خارجہ پالیسی سے متعلق ہوں یا اندرونی پالیسی سب کے سب قابل عمل ہیں اور عمل میں لائے جا چکے ہیں۔ اگر مسلمان صحیح طور پر اسلامی احکام پر کاربند ہوں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ انہیں دنیا میں سربلندی اور سرخروئی حاصل نہ ہو۔ گویا قران کی تعلیم صرف یہی نہیں ہے کہ وہ قابل عمل ہے بلکہ اپنے ماننے والوں کو بلند مقام پر فائز کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔
6۔قران کا ایک عظیم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے اندر بہت زیادہ جامعیت اور ہمہ گیری ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ بہت بڑے بڑے الفاظ اور جملوں کو یہ مختصر اور جامع انداز میں کہنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو بے جا نہ ہوگا، جو انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر محیط ہے اور یہ ایسی خصوصیت ہے جو کسی بھی دوسری الہامی کتاب میں پائی نہیں جاتی ہے۔ نہ کسی دوسرے مذاہب میں ۔پھر یہ صرف دنیا کی زندگی کے لیے نہیں ہدایت دیتی ہے قران کا کمال تو یہ ہے کہ وہ موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے بھی ہدایات دیتی ہے اور ان کی روشنی میں زندگی کو گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہے۔
7۔قران کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اس کے احکام عام حالات میں ایک عام انسان کی طاقت اور اس کی استعداد کا لحاظ رکھ کر آللہ تعالیٰ نے نازل کئے ہیں ۔ پھر معاشرے کے معزور اور کمزور لوگ اور بدلتے ہوئے حالات کا لحاظ رکھ کر ان احکامات میں رخصت یا رعایت بھی رکھی گئی ہے تاکہ کسی موقع پر بھی لوگوں میں اس پر عمل پیرا ہونے میں دشواری نہ پیش آئے ۔ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قران کریم کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جو کسی بھی انسان کے لیے،کسی بھی زمانے میں ناقابل عمل ہو۔
8۔قران کریم کا ایک نہایت ہی اہم امتیاز یہ بھی ہے کہ یہ اپنے موضوع سے ادھر ادھر بالکل نہیں ہٹتا۔ اس کا اصل موضوع انسان ہے۔ اس کی ہدایات پر چلنے سے انسان کی دنیا بھی سنور جائے اور اخرت بھی ۔قران عظیم کا کوئی صفحہ کوئی سورہ کوئی آیت کوئی سطر نکال کر ہم دیکھ لیں خواہ یہ احکامات سے متعلق ہوں یا دلائل سے یا سابقہ اقوام کے قصوں سے اور اس کے انجام سے، ہر مقام پر انسان کی ہدایت کے لیے کوئی نہ کوئی سبق موجود ہے۔
9۔قران کا ایک زبردست معجزہ یہ بھی ہے جو کہ واقعی بڑی اہم بات ہے کہ قران ایسی کسی تفسیر میں ہرگز نہیں جاتا ہے جس کا ہدایت سے کچھ تعلق نہ ہو مثلا قران نے ام موسیٰ کی طرف وحی کا تو ذکر کیا مگر ان کا نام نہیں لیا۔ سیدنا آدم علیہ السلام کو جنت میں ایک درخت کے نزدیک نہ جانے کے حکم کا ذکر کیا مگر درخت کا نام نہیں لیا ۔لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے “اھلة” یعنی نئے چاند کی شکل کے متعلق سوال کیا تو اللہ تعالی نے اس چاند کی شکل بتانے کے بجائے جواب کا رخ اس طرح موڑ دیا جو انسان کی ہدایت سے تعلق رکھتی تھی۔ کیونکہ اشکال قمر کی وجہ جاننے میں انسان کی ہدایت کا کوئی پہلو نہ تھا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اصحاب کہف کی تعداد سے متعلق کی گئ بحث و مباحثہ کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ایسی بےکار بحثوں کا ہدایت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا ہے ۔ ایسی بحثیں صرف وقت کا ضیاع ہے۔جونہ صرف بے عملی کا باعث ہی نہیں بنتی بلکہ بسا اوقات تفرقہ بازی کی بنیاد بھی بن جاتی ہیں۔
10۔قران پاک کا ایک اہم امتیاز یہ بھی ہے کہ اس نے کبھی کسی نبی اور رسول کی سیرت و کردار کو داغدار نہیں کیا جبکہ ہم بائبل اور دوسرے جگہوں میں دیکھتے ہیں کہ انبیاء کی سیرت و کردار پر بہت ہی عجیب طریقے سے عامیانہ حملے کیے گئے ہیں۔ عشق و محبت کی داستان یا نہ جانے کیا کچھ لیکن قران نے سب کو محترم ٹھہرایا اور بڑے ہی اعزاز اور اکرام کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے۔
11۔قران کی ایک اور شان یہ بھی ہے کہ اس کی شائستہ اور مہذب زبان ہے گالی گلوچ یا فحش الفاظ سے کلیتاً قران نے اجتناب کیا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے سورہ نور میں اس واقعے کے اصل مجرم کا نام لینے کی طرف توجہ کرنے کے بجائے مسلمانوں کی تربیت کی طرف توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ عزیز مصر کی زوجہ کو حضرت یوسف علیہ السلام سے فی لواقع انہی معنوں میں عشق تھا جو مشہور ہے لیکن وہاں بھی اللہ تعالی نے اس لفظ کو استعمال نہیں فرمایا بلکہپردہ رکھا۔ اس طرح کے ہر جملے اور لفظ سے قران نے اجتناب کیا ہے۔ حتی کہ اسلام کے بدترین دشمنوں کا بھی نام نہیں لیا بلکہ ان میں سے بعض کے اوصاف صرف بیان کر دیے جس سے معلوم ہو جائے کہ آیت کا روئے سخن کس شخص کی طرف ہے ہاں البتہ ابولہب اس کلیے سے استثناء ہے اور اس کی بھی ایک خاص وجہ تھی۔
الغرض قران کے امتیازات اس قدر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جس قدر غور و فکر اور گہرائی کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا جائے نئے سے نئے پہلو سامنے آنے لگتے ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قران ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کبھی نہ ختم ہونے والے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا قران کے ساتھی سے کہا جائے گا کہ تلاوت کرو اور بلندی کی طرف جاؤ اتنی ہی سہولت سے جتنی سہولت سے تم دنیا میں قران کی تلاوت کیا کرتے تھے تمہارا آخری مسکن وہ بلندی ہے جہاں تم آخری آیت کی تلاوت کے وقت پہنچو گے۔ (ترمذی احمد ابواو، نسائی)۔
سورہ محمد آیت 24 “کیا ان لوگوں نے قران پر غور نہیں کیا یا ان کے دلوں پر تالے چڑھے ہوئے ہیں”
قران پر غور و فکر کی دعوت ہمیں ہر جز میں ملے گی ۔
تم سنتے کیوں نہیں ہو؟
تم دیکھتے کیوں نہیں ہو؟
تم سوچتے کیوں نہیں ہو؟
تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟
تم تدبیر کیوں نہیں کرتے ؟
ایسے الفاظ قران کے ہر جز کے اندر ہمیں ملیں گے ۔
سورۃ الاعراف ایت 179 “ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس انکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو گئے ہیں”۔
قران سمجھ کر پڑھنا
قران واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ اسے سمجھنا اسان ہے۔
ہم نے اس قران کو نصیحت کے لیے اسان ذریعہ بنا دیا ہے پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ۔۔(سورۃ القمر ایت32)
ہم نے اس کتاب کو تمہارے لیے سہل بنا دیا تاکہ یہ لوگ قرآن سے نصیحت حاصل کریں۔(سورہ دخان آیت 58)
ہم نے اس قران میں لوگوں کو طرح طرح طرح کی مثالیں دی ہیں تاکہ یہ ہوش میں آ جائں ۔(سورہ زمر آیت 27)۔
قران کو پھیلانا
۔بلغوا عني ولو ايه اگے پہنچا دو چاہے ایک ہی ایت ہی سہی، یہ ہے قران کا مطالبہ جو وہ ہم مسلمانوں سے کرتا ہے.۔ قران کی ایک ایک آیت پر غور و فکر کرنا۔ قران سیکھنے سمجھنے کی طرف متوجہ ہونا اور جتنا سیکھ لیا سمجھ لیا اس کو اگے تک پہنچانا یہ اہم ترین کام ہے امت کا۔ باعمل ادمی کی بات ہر کوئی سنتا ہے ائیے با عمل مسلمان بننے کی کوشش کرتے ہیں۔