تحریر: ناظمہ بنتِ عبدالّرحمٰن
ملٹن ، اونٹاریو
شکر الحمدُ لِلّٰہ ربّی نور القراٰن پایا
شکُر الحمدُ لِللّہ ُربّئ امام القراٰن آیا
نہ لکھنے کا سلیقہ تھا نہ ہی لمحہ پایا
توحید نے آ کر تیرا پیار جگایا
جتن کر کے بھی کچھ لکھنا نہ آیا
شاعری دور کی بات قافیہ بھی نہ آیا
ہر کام کا وقت مقرر ہے حکم رب سے آیا
ہر خیر کا ااِک ثمر ہے قلم رَب نے تھمایا
پیغام قرآن، حرز جاں بنا لوں خیال دل میں بہار لایا
قرینہِ مفسرین جیسی روح و رواں میں مسائلِ حل پایا
آیاتِ قرآن حِفظ کروں دل رو کر دعا کر آیا
احکاماتِ قرآن ذہن نشیں کروں بنے گا منزل کا سرمایہ
قبر میں میدان حشر میں میرے محبوب تیری رحمت کا سایہ
ہجر میں، زندانِ دھر میں میرے رب تیری اُلفت کا سرمایہ
