Skip to content

سکوتِ خِزاں میں ذکرِ ربّ

  • by

فرحین فاطمہ

Mississauga

یوں تو ایک موسم ہے،ایک رُت ہے،مگر اس کی زرد چادر میں رازوں کا اک جہاں پوشیدہ ہے
بظاہر سکوت ہے
مگر اس خاموشی میں،گہری خاموشی میں، دن کی آغوش میں کروٹ لیتی شام
ہر شام میں اِک نیا پیام جیسے
چار سوٗ قدرت کی تسبیح گونجتی ہو

درخت سجدہ ریز ہیں
پتے تسبیح کے دانے بنے زمین پر بکھر جاتے ہیں
ہر زرد پتّا
ہر خاموش شاخ

یوں لگتی ہے جیسے آیت تلاوت کر رہی ہو

كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ، وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

ہوا جب شاخوں سے گزرتی ہے
تو یوں محسوس ہوتا ہے

جیسے فطرت پکار رہی ہو

فَانظُرْ إِلَىٰ آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ

دیکھو، وہی تو ہے
جو مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے
اور زرد پتّے
زندگی کے وعدوں میں ڈھل جاتے ہیں

خِزاں کے رنگوں میں
زوال نہیں، وصال چھپا ہے
سکوت نہیں، صدا ہے
اور ہر جھڑتا پتّا گواہ ہے
کہ فنا دراصل آغاز ہے

اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ

درخت جب خالی ہو جاتے ہیں
تو گلہ نہیں کرتے
رضا بن جاتے ہیں
سکوت میں شکر ہے
اور زردی مائل رنگ میں ایمان کی لطیف آمیزش ہے

زمین جب تھک کر سو جاتی ہے
تو آسمان رحمت برساتا ہے
اور دل جب بجھنے لگتا ہے
تو ربّ دل کی زمین پر ایمان کا نور نچھاور کرتا ہے

وَهُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ

یہی خِزاں کا فلسفہ ہے
کہ زوال دراصل زینت کی تمہید ہے
اور خاموشی میں بھی
ذکر کی سرگوشی جاری ہے

إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

خِزاں کہتی ہے
صبر کرو، یقین رکھو
تمہارے دل کی زمین بھی ایک دن سبز ہو جائے گی
درخت اگر ہر وقت سرسبز رہتے
صبر کا مفہوم نہ بنتا
زمین اگر ہمیشہ ہری رہتی
شکر کا جذبہ نہ بنتا

درختوں کی زردی
ہوا کا سکوت
زمین کا سکون
سب گواہ ہیں کہ
زندگی کا حسن تغیر میں ہے
ہر زرد پتّہ دراصل حیاتِ نو کا پیامبر ہے

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ… لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ

اور جب ہم خِزاں کے پتّوں پر چلتے ہیں
تو زمین کہتی ہے
فنا سے نہ گھبرا،رحمت ابدی ہے

ملی جو معارفتِ الٰہی
ہر رنگِ کائنات سے
لمحۂ ندامت، آنکھ اشکبار
ہوا جو سجدۂ جبیں آنکھوں سے ادا
گونجی دل میں یہ اذان

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

ہے سانس کی ڈور تک برقرار
یہ مشاہدے، یہ بحث و تکرار
یہ اقتدار، یہ جنگِ جنون
سب فانی، سب عارضی

ہے وقتِ متعیّن ہر نفس کا
نہ کوئی آگے، نہ پیچھے فرار

لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ

ہر لمحہ لکھا ہے، رب کا اختیار
جب تھمتی ہے سانس، تو سمجھ آتا ہے راز
یہ دنیا فقط اک سفر، اک مختصر انتظار
پھر آتا ہے اک سکوتِ جاوداں
جہاں تھم جاتی ہے ہر پکار
ہر متنفس کو ہے معلوم ہر آن فنا ہے بے ثبات زندگی کا یہ جنون
ختم ہوا سفرِ زیست

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ