Skip to content

سرد راتوں میں دلوں کی آبیاری

سارہ طالب

Ajax

اللہ کی خاص توفیق اور کرم سے اس رمضان ہمیں ایک بار پھر مل بیٹھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ لمحے محض ملاقات کے نہیں بلکہ دلوں کے جاگنے، روحوں کے بیدار ہونے اور اپنے رب کی طرف لوٹ آنے کے لمحے ہوتے ہیں۔ رمضان کی آخری ساعتیں انسان کو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کس سمت جانا ہے۔
کینیڈا کی سرد فضا میں جہاں برف اور یخ بستہ ہوائیں صرف زمین اور پودوں کو ہی منجمد نہیں کرتیں بلکہ جسموں پر بھی اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں، وہاں کبھی کبھی انسانی احساسات بھی بوجھل ہونے لگتے ہیں۔ زندگی کی رفتار ایک ہی ڈگر پر چلتی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے میں بے اختیار یہ شعر یاد آتا ہے:

صبح ہوتی ہے اور شام ہوتی ہے
یوں ہی زندگی تمام ہوتی ہے

لیکن انہی سرد اور خاموش فضاؤں کے درمیان رمضان المبارک اپنی رحمتوں کے ساتھ ہمارے دروازوں پر دستک دیتا ہے۔ استقبالِ رمضان کی خوشی، دورۂ قرآن کی بابرکت محفلیں، شب بیداری کی نورانی ساعتیں، انفاق فی سبیل اللہ کی صدائیں اور اللہ کے ذکر سے لبریز مجالس — یہ سب مل کر دلوں کو ایک نئی زندگی عطا کر دیتے ہیں۔ انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روح کو ایک نئی حرارت اور تازگی مل رہی ہو۔

اسی کے ساتھ دل کا ایک گوشہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے بھی تڑپ اٹھتا ہے۔ کہیں بمباری کی گونج ہے، کہیں ظلم و جبر کی داستانیں ہیں، کہیں معصوم بچوں اور عورتوں کی بے بسی ہے۔ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی زخمی حالتیں، ان کے چہروں پر درد اور صبر کی آمیزش دیکھ کر دل لرز اٹھتا ہے اور آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسے مناظر انسان کو بے بس بھی کرتے ہیں اور اپنے رب کے حضور جھکنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔

ایسے وقت میں مومن کے دل کو قرآن کی آیات ہی سہارا دیتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ سورۃ الفتح میں فرماتا ہے کہ:
“وہی تو ھے جس نے مومنین کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایک درجہ ایمان

اور بڑھا لیں ۔”

یہ سکینت وہ خاص عطیہ ہے جو اللہ اپنے بندوں کے دلوں میں اتارتا ہے۔ مگر یہ سکینت اسی دل پر نازل ہوتی ہے جو اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتا ہو، جس کے قول اور فعل میں تضاد نہ ہو، جس کی زبان بھی اللہ کے لیے ہو اور جس کا عمل بھی اسی کی رضا کے لیے ہو۔
یہ سرد ہوائیں، برف سے ڈھکی ہوئی زمین اور خاموش فضا جیسے ہمیں ایک پیغام دے رہی ہوتی ہے۔ بظاہر یہ موسم کتنا سخت اور ناموافق کیوں نہ ہو، لیکن اسی سردی کے بعد زمین نرم ہوتی ہے، اسی کے بعد بہار آتی ہے اور اسی کے بعد نئے پودے اگتے ہیں۔شاید یہی پیغام ہمارے دلوں کے لیے بھی ہے۔
اے اللہ!
جس طرح تو اس سرد زمین کو دوبارہ نرم کر دیتا ہے، اسی طرح ہمارے دلوں کی زمین کو بھی نرم کر دے۔
اس میں رقت پیدا کر دے، اس میں خشیت اور محبتِ الٰہی کے بیج بو دے۔
ہمیں اپنی بارگاہ کی طرف سچا رجوع نصیب فرما دے۔
اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما دے جن کے دلوں پر تو اپنی خاص سکینت نازل فرماتا ہے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *