Skip to content

سردیوں کی شامیں اور اجتماع اہل خانہ روایت یا وقت کی ضرورت

نصرت رضوان
وینکوور

مضبوط رشتے، مضبوط مسلم خاندان، بہت پیارا مضبوط اور مربوط موضوع ھے۔ اس موضوع پہ دل نےچاہا کچھ لکھوں ۔ سردیوں کی شامیںں ہوں یا گرم لحافوں، کمبلوں کے اندر دبک کر باتیں کرنے کے اوقات، سب کا اپنا ہی مزہ ہے۔ شہری زندگی کا الگ لطف ہے، دیہاتی زندگی کا اپنا ہی الگ انداز ہے ۔ ماضی اور حال میں اس موسم کے دن، رات مختلف انداز لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ماضی میں جب ٹیلی ویژن ریڈیو کا دور تھا پوری فیملی اکٹھے ہو کر پروگرام سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ مونگ پھلیاں ، ریوڑیاں، چلغوزے کھائے جاتے تھے۔ چلغوزے جو عنقاء ہو چکے ہیں بلکہ خوابوں میں ہی نظر آتے ہیں ۔
دیہاتوں میں سردیوں کا موسم بڑا رومانوی منظر پیش کرتا ہے۔ کھیتوں، کلھیانوں میں پھولی سرسوں، گنے کی تیار فصل اور گڑ بننے کے مناظر۔ شام ہوتے ہی بزرگ اپنے گھروں میں اپنے زمانوں کی کہانیاں بیان کرتے، حقے کی گڑگڑاہٹ میں پیار محبت کی گرم فضائیں، بہت سادہ سچے کھرے لوگ اپنے تجربات سے دوسروں کو فیضیاب کرتے۔

آج کے مصروف دور میں ان سرد شاموں، دنوں کا انداز ہی بدل گیا ہے۔ ہر انسان اپنے فون گیجٹس کے ساتھ اپنی ہی دنیا میں مگن ہے۔ گھروں سے لے کر محلہ معاشرہ سب ہی کا طرزِزندگی بدل گیا ہے۔ گھروں میں سب اکٹھے مل کر بیٹھیں اب عیاشی اور خواب لگتا ہے ۔زندگی کو اتنا مصروف کر لیا گیا ہے کہ اللہ کی یاد، نمازیں اور دیگر اعمال صالحہ کے لیے وقت ہی نہیں ملتا۔ اس کو روایت اور اللہ کا حکم سمجھ کر پھر سے زندہ کیا جانا چاہیے۔ اس کو وقت کی اہم ضرورت سمجھ کر اختیار کرنا چاہیے ۔
سردیوں کی طویل راتیں اللہ کی یاد سے مزین کی جائیں۔ دن کے مختصر اوقات کو صوم و صلاة کے نور سے سجایا جائے۔ اس موسم کو جتنا زیادہ دلکش اور مصروف بنایا جائے اتنا ہی سود مند ہے ۔اپنی اصلاح، دلوں رشتوں کو جوڑنے کی مثبت کوششیں، رابطوں کی مضبوطی، رشتوں کی چاشنی، ہمیں بہترین مسلمان بناتی ہیں۔ ایسا ہوتا ہے تب ہی تو ایک مضبوط مسلم معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

اسوہ حسنہ ہمیں بتاتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین آمد سرما سے بہت خوش ہوتے تھے۔اس کی دو وجوہات کی ہیں ۔
اول تو دنیاوی طور پہ کہ گرمی کی شدت کے بعد موسم سرما کی آمد ، دوم اور سب سے بڑھ کر سرما میں دنوں کے چھوٹے روزے راتوں کے قیام الیل، روح کی طمانیت کا سامان فراہم کرتے ہیں ۔غرض یہ کہ دینی و دنیاوی طور پرموسم سرما اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے یہ موسم ہمیں لمحہ فکریہ بھی عطا کرتا ہے۔

سورہ ال عمران میں آیت 190 میں آللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

*بے شک آسمان اور زمین کا بنانا دن اور رات کا آنا جانا اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے* اور اگلی آیت تسلسل ہے کہ ہم ہر حال میں ،زندگی کے ہر لمحے میں، ہر حال میں، اللہ کو یاد کریں، اقرار کریں کہ اللہ نے یہ سب کچھ بیکار پیدا نہیں کیا۔ دنیا میں خیر اور آخرت کے عذاب سے بچنے کی دعائیں مانگیں اپنے لیے سب کے لیے ۔

1 thought on “سردیوں کی شامیں اور اجتماع اہل خانہ روایت یا وقت کی ضرورت”

  1. سردیوں کی شامیں اپنے اہل وعیال کے ساتھ نصرت رضوان نے دل کے تار چھیڑ دیئے بیحد خوبصورت آرٹیکل لکھا ہے یادوں کے سمندر میں غوطے لگانے کا جی چاہ رہا ہے وہ سردیوں کی راتوں میں لحافوں میں گھس گھس کے مونگ پھلیاں کھانا اور پی ٹی وی کا لونگ پلے ڈرامہ دیکھنا بہن ،بھائیوں کے ساتھ لڑنا جھگڑ نا سب یاد آگیا۔بہت شاندار منظر کشی کی ہے۔

Comments are closed.