شاہنہ اعوان
ونی پیگ
رمضان کی بہاریں
رحمت کی ھیں پھواریں
مسجد میں ہیں قطاریں
اک میلہ سا لگا ھے
اللہ کا رنگ چڑھا ھے
ایمان کا تقاضا
دل کا کھلا دروازہ
ایمان جگمگایا
صدقہ خیرات بانٹا
دل نے سکون پایا
رمضان کی بہاریں
رحمت کی ہیں پھواریں
قرآن کا اثر ھے
چہروں پہ نور آیا
نہ کوئ تھکا تھکا ہے
ہر چہرہ مسکرایا
ابر کرم ہے چھایا
رمضان کی بہاریں
رحمت کی ہیں پھواریں
عبادت میں دن گزارا
کیا لطف تھا نرالا
دعاؤں کا یہ مو سم
آیا ہے پھر دوبارہ
دل نے تجھے پکارا
بس تیرا اک سہارا
رمضان کی بہاریں
رحمت کی ہیں پھواریں
بخشش ھے تیرا وعدہ
بس یہ ہی التجا ہے
مقبول ھوں خدارا
اعوان کی صدائیں
رمضان کی بہاریں
رحمت کی ہیں پھواریں
افطار ہو چلا ہے
پکوان ہے سجایا
مزہ ہو گیا دوبالا
جب سب نے مل کے کھایا
رمضان کی بہاریں
رحمت کی ہیں پھواریں