تحریر: سارہ قیوم
1 رمضان 1446ھ
2 مارچ 2025
ڈیئر ڈائری،
رُت بدلنے لگی رنگ دل دیکھنا، رنگ گلشن سے اب حال کھلتا نہیں
زخم چھلکا کوئی یا کوئی گل کھلا، اشک اُمڈے کہ ابرِ بہار آگیا
سال بدلا، رت بدلی، موسم کے ساتھ دل نے بھی کروٹ لی اور رمضان ایک بار پھر زندگی کے کواڑ پر دستک دینے لگا۔ وہ رمضان جس کا میں سارا سال انتظار کرتی ہوں۔ وہ روزہ رکھنے کی سرخوشی، وہ درس قرآن کا دورہ، وہ مسجد کی رونقیں، وہ اپنے اندر جھانکنے کا موقع اور سب سے بڑھ کر یہ رمضان ڈائری جو پورے ایک سال بعد مجھے ایک بار پھر اپنے پڑھنے والوں کی محفل میں لا بٹھاتی ہے۔ ہر سال میں ہنسی خوشی ”رمضان پھر آگیا” کا نعرہ بلند کرتی ہوں اور زندگی کی تیز رفتار راہگزر پر اپنے پڑھنے والوں کا ہاتھ تھامے چل پڑتی ہوں۔ بڑی محبت سے ان سے پوچھتی ہو کہ میرے سجنو اور بیلیو! بتاؤ تو سہی یہ سال کیسا گزرا؟ کچھ اپنی سناتی ہوں، کچھ ان کی سنتی ہوں اور رمضان ڈائری کا ایک مہینے پر محیط سفر ہنستے کھیلتے کٹ جاتا ہے۔ لیکن اب کی بار یہ ڈائری لکھنے بیٹھی ہوں تو سوچتی ہوں کیا پوچھوں کیا بتاؤں؟ رنگِ گلشن سے حال کھلتا نہیں اور رنگ دل دیکھنے کی فرصت کسے۔ دل میں گل کِھلتے ہو یا زخم کُھلتے ہوں، زندگی اپنی شوریدہ سر روانی سے چلتی چلی جاتی ہے۔
2024 عجیب سال تھا۔ خونِ دل کے شوخ رنگ سے چھلکتا ہوا، محبت کی کیف آور خوشبو سے مہکتا ہوا اور بغض اور عداوت کے لاوے میں ابلتا ہوا۔ مئی میں میں نے اپنے عزیز از جان بھائی کو مٹی کے سپرد کیا۔ اور پھر میں نے زندگی کے کئی رنگ دیکھے۔ زندگی کے بھی اور انسانوں کے بھی۔ لیکن جو رنگ میں نے اللہ کی رحمت کے دیکھے، ان کے آگے تمام رنگ ہیچ ہیں۔
زندگی کے اس سب سے بڑے صدمے کے لیے اللہ نے مجھے کئی سال پہلے سے تیار کرنا شروع کردیا تھا۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو سمجھ آتا ہے کہ یہ اتفاق نہیں تھا کہ سیرت نبویۖ کے مطالعے نے مجھے اہل بیت اطہار کی محبت میں مبتلا کیا تھا۔ یہ اتفاق نہیں تھا کہ میں نے واقعہ کربلا کا گہرائی میں مطالعہ شروع کردیا تھا اور یہ بھی اتفاق نہیں تھا کہ میں حضرت بی بی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بے حد متاثر ہوئی تھی۔ وہ ان کی شجاعت، وہ اُن کا جان سے پیارے بھائی کے لیے دل چیرتا غم، وہ راتوں رات ان کے بالوں کا سفید ہو جانا۔ وہ یزید کے دربار میں ان کا درو دیوار کو ہلا ڈالتا خطبہ۔ میں ان کے بارے میں پڑھتی تھی اور دل ہی دل میں ان سے مخاطب ہوکر کہتی تھی: ”بی بی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاش میں آپ کو گلے لگا کر تسلی دے سکتی۔”
میں یہ نہیں جانتی تھی کہ ایک دن ان کا تصور مجھے گلے لگا کر تسلی دے گا۔ ان کے سفید بالوں کا ہالہ مجھے اپنے حصار میں لے لے گا اور وہ شفقت سے کہیں گی:”تم نے تو ایک بھائی کھویا ہے، میں نے سات کھوئے تھے۔ اٹھو اور میری میراث کو تھام لو۔ اس غم کو اپنی طاقت بنا لو۔”
یہ بھی اتفاق نہیں تھا کہ ایک سال پہلے مجھے کچھ الگ طرح کے خواب آنے لگے تھے۔ کسی انہونی کا پتا دیتے خواب۔ میری چھٹی حس بے چین ہو جاتی تھی۔ پھر اس بے چینی میں اضافہ ہونے لگا۔ بے چین کردینے والے واقعات میں تیزی آنے لگی۔ سال شروع ہوا تو گویا الٹی گنتی شروع ہوگئی۔ اردگرد سے دل دہلا دینے والی خبریں آنے لگیں۔ نوجوان مردوں کی اچانک ناگہانی اموات کی خبریں۔ رشتہ داروں میں، پڑوس میں، جاننے والوں میں پے در پے یہ سانحے ہونے لگے۔ ہر ایسی خبر پر میرا دل دھک سے رہ جاتا۔ بے اختیار پہلا خیال یہ آتا کہ اللہ مجھے کسی چیز کے لیے تیار کررہا ہے۔ میں گھبرا کر اپنے بچوں کی زندگی کی دعائیں مانگنے لگتی۔ یہ ادراک تو مجھے بعد میں ہوا کہ ان سب میں اور میرے بھائی میں کیا قدر مشترک تھی۔ وہ سب نوجوان تھے، ان سب کی موت اچانک ہوئی تھی، اور ان سب کی مائیں جوانی میں بیوہ ہوگئی تھیں۔ یہ مماثلت اتفاقیہ نہیں تھی۔ اللہ مجھ سے زیادہ میری ماں کو اس سانحے کے لیے تیار کررہا تھا۔
جس طرح میدان جنگ میں جوں جوں تصادم کا وقت قریب آتا جاتا ہے، طبل جنگ کے بجنے میں شدت آنے لگتی ہے۔ اسی طرح میرے دل کی دھڑکن شدومد سے دھڑکنے لگی تھی۔ اس کے انتقال سے دو مہینے پہلے مجھ پر بے وجہ اداسی کے احساس نے پنجے گاڑنے شروع کر دیئے۔ میں عام طور پر خوش رہتی ہوں۔ اپنا فوکس نعمتوں اور ان پر شکرگزار رہنے پر رکھتی ہوں۔ اُداس رہنا میرے نزدیک کفران نعمت ہے۔ لیکن یہ کیسا عجیب سا ڈپریشن تھا جو دل کو مٹھی میں لینے لگا تھا۔ چند دن تو میں نے سہا لیکن جب بات برداشت سے باہر ہوگئی تو میں نے اپنے میاں صاحب سے تذکرہ کیا۔ یوں جیسے کوئی اعتراف جرم کرتا ہے۔ ”پتا نہیں کیا ہوگیا ہے۔” میں نے کہا ”مجھے خود پر شرم آتی ہے کہ اتنی نعمتوں کے ہوتے ہوئے بلاوجہ اداس رہنے لگی ہوں۔”
ہمارے صاحب، جو ڈاکٹر ہیں، نے کہا ”عورتوں کے موڈز پر بہت سے ہارمونز اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک وٹامن کی گولی دیتا ہوں، آدھے گھنٹے میں اداسی ختم ہو جائے گی۔”
لیکن اداسی ختم نہ ہوئی۔
تین ہفتے پہلے میرا سانس بند ہونے لگا۔ میں کھینچ کھینچ کر سانس لیتی تھی لیکن سانس گویا حلق میں اٹک کر واپس آ جاتا تھا۔
یہ میرا سانس نہیں تھا جو اچٹتا تھا، یہ میرا خون تھا جو مچلتا تھا۔ پکار پکار کر کہتا تھا کہ میرا وہ حصہ جو ماں جائے کی رگوں میں دوڑتا ہے ہمیشہ کے لیے مٹی ہونے والا ہے۔ ہوشیار، خبردار۔
اللہ نے بڑی محبت اور کرم سے میرے دل کی زمین کو تیار کیا۔ عظیم ہستیوں کی مثالوں کا سہارا دیا۔ پھر پیش خبریوں کی باڑ لگائی۔ چھٹی حس کے اشاروں کے ستون گاڑے۔ پھر بہت احتیاط، بہت نرمی سے اس پر غم کا بوجھ رکھ دیا۔ لیکن میں بھی تو اپنے بھائی جیسی ہی تھی۔ شکل و صورت میں ایک، دل و روح میں یکساں۔ اس کا دل پرندوں کی طرح تھا۔ ہارٹ اٹیک برداشت نہ کرسکا ،بند ہوگیا۔ میرا دل بھی اتنے سہاروں کے باوجود کمزور رہا۔ غم کا بوجھ سہار نہ سکا، تڑخ گیا۔
دکھ کی اس تڑخ پر صبر کا لیپ مجھے خود کرنا تھا۔ خدا کے نظام میں صرف نعمت اور شکر نہیں ہے۔ محرومی اور صبر بھی ہے۔ شکر اور صبر ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں۔ ان کی جڑیں بھی مشترک ہیں اور پھل بھی۔ ایک کے بغیر دوسرے کا ہونا ناممکن ہے۔ شکر گزاری ہوگی تو ہی صبر ہو گا، صبر ہو گا تو ہی شکر گزاری ہو گی۔ مجھے اب سمجھ میں آیا کہ مجھے شکر کا حکم کیوں دیا گیا تھا۔ مجھے اب معلوم ہوا کہ شکر کی عادت نے جو ٹریننگ میرے دل و دماغ کو دی تھی وہ کیوں ضروری تھی۔ جب آنکھ کو عادت ڈال دی جائے کہ صرف اس کو دیکھے جو موجود ہے، اس کو نہیں جو نہیں ہے۔ جب دل کو عادت ڈال دی جائے کہ نعمت کو اپنا حق نہیں، دینے والے کا احسان سمجھ کر اس کی قدر کرے اور جو نعمت نہیں ملی اس پر شکوہ نہ کرے۔ جب زبان کو عادت ڈال دی جائے کہ دس میں سے جو سات نعمتیں ملی ہیں، پہلے ان کا تذکرہ اور شکر کرے اور پھر ان تین کو مانگے جو نہیں ملیں، تو شکر گزاری کے درخت سے صبر کی شاخ خود بخود پھوٹنے لگتی ہے۔ اس کی ٹھنڈی چھاؤں جلتے بلتے دل پر سایہ کر دیتی ہے اور اس کے پھل کی مٹھاس اس دنیا ہی میں ملنے لگتی ہے۔
میں سمجھتی تھی کہ جب اس نے کہا کہ ”تم شکر کرو، میں تمہیں اور دوں گا۔” تو اس ”اور” سے مراد دنیاوی نعمتیں تھیں۔ اب معلوم ہوا کہ اس سے مراد تو خود اس کی اپنی ذات تھی۔ تم اس پر شکر کرو جو میں نے تمہیں بخشا ہے تو میں تمہیں وہ کچھ دینے لگوں گا جو تمہارے وہم و گمان میں نہ تھا۔ میں تم پر اپنا آپ کھولنے لگوں گا ہرت در پرت۔ اپنے راز عیاں کرنے لگوں گا، ذرہ بہ ذرہ۔ تمہاری آنکھ ان چیزوں کو دیکھنے کے لیے کھول دوں گا جنہیں عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ تم موجود پر شکر کرو، میں تمہیں ناموجود بھی دے دوں گا۔
اللہ نے میرے ساتھ وہ برتاؤ کیا جو ایک ماں اپنے چوٹ کھائے بچے کے ساتھ کرتی ہے۔ جب بچہ روتا ہوا ماں کے پاس آتا ہے تو ماں محبت سے اسے آغوش میں لے لیتی ہے۔ اسے اس کی پسند کی چھوٹی چھوٹی چیزیں دے کر بہلاتی ہے۔ کبھی ٹافی، کبھی کوئی کھلونا۔ اسی طرح اللہ نے مجھے اپنی محبت کی آغوش میں لے لیا۔ مجھے بہلانے اور خوش کرنے کو بہت کچھ دیا۔ کبھی کسی انسان کی دی ہوئی تسلی سے، کبھی خواب میں بھائی کا خوش کن احوال دکھا کر اور کبھی چھوٹی چھوٹی دعائیں قبول کرکے۔ بچوں کا رزلٹ اچھا آجانا، ان کا مرضی کے کالج یونیورسٹی میں میرٹ پر داخلہ ہو جانا، غیر متوقع طور پر بڑے بیٹے کی گھر سے کام کرنے کی درخواست منظور ہو جانا اور اس کا پاکستان آجانا، امی کا گھر بغیر رکاوٹ کے تکمیل کو پہنچ جانا۔ یہ سب اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔ سوچتی ہوں یہ سب اُس نے مجھ گناہگار کے لیے کیا۔ پتا نہیں اپنے نیکو کاروں کے لیے وہ کیا کچھ کرتا ہوگا۔ یا شاید وہ اپنے سب بندوں کے لیے یہی کرتا ہے۔ ہم ہی بند ہو جانے والے دروازے کو دیکھنے میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ کھلنے والے دروازوں کی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا۔
میں نے لوگوں کے بھی کئی رنگ دیکھے۔ جہاں بہت سوں نے دعا دی، وہاں کچھ نے دکھ دیا۔ لیکن اگر رات نہ ہو، تو دن کیونکر سمجھ میں آئے۔ اگر نشتر نہ ہوں تو مرہم کی قدر کیسے ہو۔ محبت کی قدر کرنے اور اس کا حقیقی معنوں میں شکر کرنے کے لیے میرا عداوت کا سامنا کرنا ضروری تھا۔
میرا بھائی، میرا زوار، دنیا کا مومن ترین انسان تھا۔ وہ معاملات میں کھرا تھا، عبادات میں خالص تھا۔ اس کے جنازے پر فرشتے جھولیاں بھر بھر گواہیاں لے کر اٹھے۔ اس کے دفتر کے ماتحت آئے اور آنسوؤں کے ساتھ ایک ہی بات کہتے رہے” وہ ہمارے لیے باپ کی طرح تھے۔ مہربان اور مددگار۔” اس کے بچپن کے دوست نے آکر کہا۔ ”پرانے دوستوں سے کچھ چھپا نہیں ہوتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ سڑک پر پڑا کوئی پتھر بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ مجھے ٹھوکر مار کر گزرا تھا۔ کسی نے اس کی زبان سے کبھی کوئی سخت، ناشائستہ یا جھوٹی بات نہیں سنی۔”
وہ رحمن کا بندہ تھا اور اس میں وہ سب خوبیاں تھیں جو رحمن کے بندوں میں ہوتی ہیں۔
اس کی یاد آتی ہے تو آنسو نہیں رکتے۔ میں انہیں روکتی بھی نہیں۔ یہ آنسو نہ تو صبر کے منافی ہیں نہ احسان شناسی کے۔ یہ تو اس محبت کی تجسیم ہیں جو مجھے اپنے بھائی سے تھی۔ یہ میری بہت بڑی خوش قسمتی تھی کہ اللہ نے اپنی تخلیق کردہ لاکھوں روحوں میں سے ایک بہترین روح کو چنا اور اسے میری زندگی میں، میرے گھر میں بھیجا۔ پھر اس سے محبت کا رشتہ قائم کیا۔ یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ میں اس رشتے کی نعمت سے ہی آشنا نہ ہوتی۔ میرا کوئی بھائی ہی نہ ہوتا۔ ہوتا تو ایسا خالص ہیرا نہ ہوتا۔ وہ بھی ہوتا تو ہم میں باہمی محبت کی یہ کیفیت نہ ہوتی۔ محبت ہوتی تو ساتھ رہنا نصیب نہ ہوتا۔ ساتھ ملتا تو خدمت کا موقع نہ ملتا۔
اللہ نے مجھے یہ سب کچھ بخشا، یہ سب موقعے دیئے، یہ سارے احسان کیے۔ ان احسانوں کا بدلہ میرے پاس کچھ نہیں۔ سوائے شکر کے دو لفظوں کے۔
اے میرے مہربان رب! اس دنیا میں جتنے انسان ہیں، جتنا ان کا وزن ہے، اور جتنا ان کے سامان کا وزن ہے، اور جتنا ان کے اعمال کا وزن ہے، میں اس کے برابر اپنا تشکر تیرے قدموں میں رکھتی ہوں۔ تیرے احسانوں کا اقرار کرتی ہوں۔ تیری رضا میں راضی ہوں، خوش ہوں، شکر گزار ہوں۔ اگر تجھے میری یہ نیاز قبول ہے تو اس کا ثواب میرے بھائی کے حق میں قبول کر۔ جس طرح اِس دنیا میں اس کا ساتھ نصیب کیا، اُس دنیا میں بھی نصیب کر۔
اے پالن ہار! سب ماؤں کے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ جو بہنیں میرے یہ لفظ پڑھ رہی ہیں، ان کے بھائیوں کی خیر ہو۔ وہ جس رستے پر قدم رکھیں، اس رستے کی خیر ہو۔ اس رستے پر چلنے والوں کی خیر ہو۔ ان چلنے والوں کی ماؤں کی خیر ہو۔ آمین یا رب العالمین۔