Skip to content

رمضان میں اسراف کیوں ؟

  • by

نسیم مسرور
مسی ساگا

سنن نسائی کی حدیث ہے “اللہ کے پاس وہی عمل قابل قبول ہوتا ہےجو خالص اس کی رضا کے لئے کیاجائے “ہم سب روزہ اسی خالص نیت و جذبے کے ساتھ رکھتے ہیں مگر بشری تقاضوں کی وجہ سے ہم زندگی میں بہت سی جگہوں پر بے اعتدالی اور خواہشات نفس کا شکار ہو جاتے ہیں- رمضان سے بہت پہلے ہی سے
سوشل میڈیا پردو طرح کی ہائیو شروع ہوجاتی ہیں ضیافت اور عبادت رمضان کی تیاری کرلیں یہ بنا کر فریز کرلیں وہ بناکر فریز کرلیں مصالحے بنالیں چٹنیاں بنالیں گویا
ضیافتوں اور چٹخاروں کا مہینہ آنےوالا ہے میڈیائی علماء(اداکار)آپ کو بتائیں گے کہ شعبان میں یہ پڑھ لیں تو غیب سے یہ ملے گا رمضان میں یہ پڑھ لیا تو غیب کے خزانے مل جائیں گے گویا دین نہ ہوا اللہ دین کا چراغ ہوگیا گویا کھانوں کا اہتمام اور وظائف بس دنیا ہی پیش نظر ہے جہاں جانا ہے اور ضرور جانا ہے اس کی پلاننگ ہے ہی نہیں! سراف ہی اسراف جس مس خام کو کندن بنانے کا نسخۂ کیمیا نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کو عطا کیاگیا ہم نے سنہار کی کیمیا گری میں تبدیل کردیا ہمارے یہاں مہد سے لحد تک اسراف ہی اسراف نظر آتا ہے رمضان میں ہم افطار پار ٹیوں کے شوقین ہیں انواع و اقسام کی افطاری اور کھانے تیار کرنے میں وقت اور پیسہ لگاتے ہیں پھر اپنی بھی تیاری سورۂ بنی اسرائیل آیات 26,27 “اور رشتے داروں اور مسکین اورمسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو
بے شک بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے”
بے شک خرچ کریں مگر کب ، کیسے کس پر ،کہاں اور کتنا ذرا سوچ کر!اللہ تعالیٰ کو اسراف عام دنوں میں پسند نہیں تو رمضان اورنزول قرآن کے مہینے میں کیسے قبول ہو سکتا ہے کھانا ایک ضرورت ہےوہ ایک دو قسم کے کھانوں سےبھی پوری کی جاسکتی ہے اس کے لئے طرح طرح کی ڈشیز بنانا ضروری نہیں اگرہم اسی عمل پر مصر رہیں گے تو پیٹ کے امراض سے اور موٹاپے کا شکار ہوں گے گھر کے بجٹ الگ فیل ہوں گے-بسیار خوری سستی پیدا کرتی ہے پھر تراویح اور فجر کے بعد کے اذکار مشکل لگتے ہیں-ہم سے مال کمانے اور مال خرچ کرنے پر بھی سوال ہوگا کہ اگر کمایا حلال ہےتو خرچ باطل کاموں بدعات اور رسومات پر کیوں کیابیلنس قائم رکھنا یہ دین کا ایک اصول ہے ہم ایک طرف اسراف کرتے ہیں تو دوسری طرف کمی کرتے ہیں یہ عمل زندگی کو غیر متوازن اور غیر یقینی بناتا ہے اعتدال زندگی میں ہر قدم اور ہر موقع پر ہونا چاہیئے
سورۂ یونس آیت 57 “ اے لوگوں
تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کے روگ کی شفا تمھارے پاس آگئی ہے جو مومنین کے لئے ھدایت اوررحمت ہےتو عزیزوں ہمیں اس سر چشمے سےخود کو سیراب کرنے اور ھدایت کو عمل میں ڈھالنے کی جہد کرنی ہے
بقول شاعر
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہےنہ ناری
آخر میں ترمذی کی حدیث پیش خدمت ہے “ نبی صل اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ عقلمند وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرتا رہے اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے تیاری کرتا رہے اور بے وقوف وہ ہے جو پیروی تو خواہشات کی کرے اور امیدیں اللہ سے لگائےرکھے- وما علینا البلاغ