Skip to content

*دعا*

  • by

سعدیہ شکیل

Hamilton

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری!
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے!
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے!
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یارب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

یہ نظم “لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” محض چند سادہ اشعار نہیں، بلکہ ایک ایسی روحانی اور اخلاقی روشنی ہے جس نے میرے اندر انسانیت، خدمت اور کردار کی مضبوط بنیادیں قائم کیں۔ جب میں نے یہ نظم پہلی مرتبہ پڑھی تھی تو شاید میں اس کی گہرائی کو اس طرح محسوس نہ کر کر سکی، مگر وقت کے ساتھ اس کے ہر مصرعے نے میرے دل پر ایک ایسی دستک دی جس نے مجھے بدل کر رکھ دیا۔ آج میں جس سوچ، جس حساسیت اور جس خدمتِ خلق کے جذبے کو اپنے اندر دیکھتی ہوں، اس کے پیچھے اس نظم کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
بچپن میں ہم اسکول میں اس پر ٹیبلو کا حصہ تھی ۔
آجکل خاص کر جب میں سٹڈی سرکل میں “سراج منیر “ پڑھ رہی ہوں شاید اس لیے تعلق بنتا محسوس ہوتا ہے
نظم کا پہلا ہی مصرع “زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری” مجھے ہمیشہ یہ احساس دلاتا رہا کہ زندگی کا اصل مقصد اپنے آپ کو صرف اپنے لیے جلانا نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے روشنی بننا ہے۔ شمع جلتی ہے، پگھلتی ہے، مگر دوسروں کے لیے راستہ روشن کرتی ہے۔ اس تصور نے مجھے سکھایا کہ انسان کا وجود اس وقت تک بامعنی نہیں ہوتا جب تک وہ دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا نہ کرے۔ جب بھی میں نے کسی مشکل میں گھرے شخص کی مدد کی، دل کے اندر ایک ایسی روشنی محسوس ہوئی جیسے واقعی شمع نے کسی اندھیرے کو شکست دی ہو۔

اسی طرح یہ شعر کہ “ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے” مجھے اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ انسان کی سچائی، اس کی نرمی، اور اس کا رویہ بھی ایک روشنی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ میں جب کسی سے محبت، ہمدردی یا مسکراہٹ کے ساتھ پیش آتی ہوں تو نہ صرف دوسرے کا دن آسان ہوتا ہے بلکہ میرا اپنا دل بھی وسیع ہو جاتا ہے۔ اس نظم نے مجھے سکھایا کہ روشنی ہمیشہ کسی بڑی قربانی کا نام نہیں، کبھی کبھی ایک لفظ، ایک دعا، ایک چھوٹا سا قدم بھی کسی کے دل میں امید جگا دیتا ہے۔

نظم کے وہ اشعار جن میں شاعر نے غریبوں کی حمایت، ضعیفوں سے محبت اور درد مندوں کے ساتھ ہمدردی کی دعا مانگی ہے، انہوں نے میرے اندر خدمتِ خلق کو عبادت کا درجہ دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اصل انسانیت تب شروع ہوتی ہے جب ہم اپنے دائرۂ آرام سے نکل کر کسی دوسرے کی تکلیف کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ جب میں نے پہلی بار کسی ایسے شخص کی عملی مدد کی جس کے پاس وسائل کم تھے، تو مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اس نظم کی عملی تفسیر اپنی آنکھوں سے دیکھی ہو۔ اس لمحے مجھے سمجھ آیا کہ ہمدردی کا ایک قدم نہ صرف دوسرے کے لیے سہارا ہوتا ہے بلکہ میرے اپنے کردار کی تعمیر بھی کرتا ہے۔

اور نظم کا آخری حصہ—برائی سے بچانے اور نیکی کی راہ پر چلانے کی دعا—میرے لئے روزانہ کی رہنمائی بن گیا۔ اس نے مجھے یہ سمجھایا کہ اچھا انسان بننے کا سفر بیرونی نہیں، بلکہ اندرونی تبدیلی سے شروع ہوتا ہے۔ خود احتسابی، نرمی، تحمل، اور نیکی کے راستے پر چلنے کی ہمت… یہ سب میں نے اسی نظم سے سیکھا۔

آج جب میں یہ نظم دوبارہ پڑھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف بچوں کی دعا نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے لیے ایک روشن منشور ہے جو ایک بہتر انسان بننے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس نظم نے مجھے بدل دیا—میرا دل نرم کیا، میرا مقصد واضح کیا، اور مجھے سکھایا کہ انسان سب سے خوبصورت تب ہوتا ہے جب وہ دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔واقعی، یہ نظم میرے لیے ایک دعا ہی نہیں بلکہ ایک مکمل زندگی کا سبق ثابت ہوئی—ایک ایسا سبق جس نے مجھے نہ صرف لوگوں کی مدد کرنے والا بنایا، بلکہ ایک بہتر انسان بھی۔