نیر تاباں
Newfoundland
“اسلام نے یہ حقوق پہلے ہی دے رکھے ہیں۔مزید کیا آزادی چاہیے عورت کو؟”“انہیں مغرب کی عورت والی آزادی چاہیے، حالانکہ وہاں عورت کے ساتھ یہ اور یہ سلوک ہوتا ہے۔”“چھوڑیں عورت کو، مرد کی تعریف کرتے ہیں۔ میرے بھائی، ابو، شوہر تو بیسٹ ہیں۔ یہ مظلومیت کے قصے دیومالائی ہیں۔”
“ارے بیسٹ کہاں، اصل فساد کی جڑ ہی مرد ہیں۔ ہم عورت کا دن مرد کو ذلیل کر کے گزاریں گے۔” “کیوں کیوں؟ مرد کا قصور ہی کیا ہے؟ عورت ہی عورت کی دشمن ہے!”
دونوں طرف سے ہوتے اس گولہ بارود کے بیچ میں تنکوں سے بنے ایک ہٹ کے نیچے چٹائی بچھا کر بیٹھ جانا چاہتی ہوں جہاں میرے ساتھ کچھ اور لڑکیاں آن ملیں۔ وہ لڑکیاں جنہیں کسی کو کچھ پروو نہیں کرنا۔ جو کسی مقابلے کا حصہ نہین۔ جو اپنے ہونے پر نازاں ہیں۔ جنہیں آج کا دن بس خود کو سراہنا ہے۔ کسی کو برا بھلا نہیں کہنا، کسی سے زبردستی کچھ منوانا نہیں، بس وہ اپنے ہونے پر خوش ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ اپنی ڈومین میں وہ بہترین کر رہی ہیں چاہے وہ جس بھی روپ میں ہیں۔
کسی بھی مقابلے سے دور، اپنے کل سے اچھا اپنا آج بنانے کی کوشش میں مگن، زندگی کی تلخیوں میں اپنی مٹھاس برقرار رکھنے والی، سختیاں جھیل کر بھی نزاکت والی، نزاکتوں میں پل کر بھی بہادر اور مضبوط!
ہیپی ویمنز ڈے، پیاری لڑکیو!
چہکتی رہیں۔ مہکتی رہیں۔ زندگی جیئیں!