Asma Batool
Mississauga
مثبت سوچ، پاکیزہ دل اور مضبوط تعلقات کی بنیاد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
(سورۃ الحجرات: 12)
ترجمہ: “اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔”
اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی سوچ، کردار، رویوں اور باہمی تعلقات کی اصلاح کرتا ہے۔ دل کی پاکیزگی، زبان کی حفاظت اور دوسروں کے بارے میں خیر خواہی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں۔ انہی اعلیٰ اخلاقی اوصاف میں سے ایک حسنِ ظن ہے، یعنی اپنے مسلمان بھائی یا بہن کے بارے میں اچھا گمان رکھنا، جبکہ بدگمانی دل کو آلودہ کرنے والی ایسی بیماری ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی شخصیت، تعلقات اور پورے معاشرے کو متاثر کر دیتی ہے۔
قرآنِ کریم نے نہ صرف بدگمانی سے منع فرمایا بلکہ اسے گناہ قرار دیا، کیونکہ اکثر بدگمانیاں حقیقت پر نہیں بلکہ قیاس، غلط فہمی یا شیطانی وسوسوں پر مبنی ہوتی ہیں۔
گمان کی مختلف صورتیں
ہر گمان قابلِ مذمت نہیں۔ علماء نے گمان کی مختلف اقسام بیان کی ہیں۔
سب سے بہترین گمان حسنِ ظن ہے، یعنی دوسروں کے بارے میں اچھا سوچنا، ان کے لیے اچھے عذر تلاش کرنا اور ان کی نیت کو بلاوجہ مشکوک نہ سمجھنا۔ یہی وہ صفت ہے جو محبت، اعتماد اور اخوت کو فروغ دیتی ہے۔
ایک گمان وہ بھی ہے جو تحقیق، عدالت یا کسی ذمہ داری کی ادائیگی کے دوران شواہد اور قرائن کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یہ احتیاط اور انصاف کے تقاضوں میں شامل ہے۔
ایک صورت ایسی بھی ہوتی ہے جہاں کسی شخص کے کردار میں واضح خرابیاں موجود ہوں۔ ایسی صورت میں بغیر تحقیق کے اس پر مکمل اعتماد کرنا دانشمندی نہیں، خصوصاً اگر اسے کوئی اہم ذمہ داری سونپنی ہو۔
البتہ وہ بدگمانی جس کی قرآن نے مذمت کی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان بغیر کسی دلیل کے دوسروں کے بارے میں منفی رائے قائم کر لے، ان کے ہر عمل کی غلط تعبیر کرے اور ان کی نیت پر شک کرنے لگے۔ یہی بدگمانی گناہ ہے۔
حسنِ ظن… ایمان کی خوبصورتی
حسنِ ظن صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کی خوبصورتی بھی ہے۔ یہ انسان کو نرم دل، بردبار اور خیر خواہ بناتا ہے۔ حسنِ ظن رکھنے والا شخص دوسروں کی غلطیوں سے پہلے ان کی مجبوریوں کو دیکھتا ہے اور ان کے لیے اچھے عذر تلاش کرتا ہے۔
حضرت عمر بن خطابؓ کا ایک نہایت خوبصورت قول ہے:
“اپنے مسلمان بھائی کی بات کو ہمیشہ اچھے معنی پر محمول کرو، جب تک اس کی کوئی ایسی تعبیر ممکن ہو جو خیر پر مبنی ہو۔”
یہی وہ سوچ ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے اور معاشرے میں اعتماد پیدا کرتی ہے۔
ہماری روزمرہ زندگی اور حسنِ ظن
بدقسمتی سے ہم اکثر معمولی باتوں پر بدگمانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اگر کسی نے فون نہ اٹھایا تو فوراً یہ خیال آتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے، حالانکہ ممکن ہے وہ کسی میٹنگ، سفر یا کسی مجبوری میں ہو۔
اگر کسی نے ہمارے پیغام کا جواب نہ دیا تو ہم دل میں شکوے پال لیتے ہیں، جبکہ ممکن ہے وہ مصروف ہو یا جواب دینا اس کے ذہن سے نکل گیا ہو۔
اگر کوئی پروگرام میں دیر سے پہنچے تو ہم اسے غیر ذمہ دار سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ راستے کی ٹریفک، اچانک پیش آنے والی مصروفیت یا کسی ہنگامی صورتحال کا بھی امکان ہو سکتا ہے۔
بچے اگر کوئی کام بھول جائیں تو فوراً انہیں لاپرواہ قرار دینے کے بجائے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ بھول جانا انسانی فطرت ہے۔
بعض اوقات کسی مجلس میں عمومی انداز میں کی گئی بات کو بھی ہم اپنی ذات پر لے لیتے ہیں اور بلاوجہ دل آزردہ ہو جاتے ہیں، جبکہ حقیقت میں اس کا تعلق ہم سے ہوتا ہی نہیں۔
یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں شیطان بدگمانی کا بیج بوتا ہے، جبکہ ایک مومن حسنِ ظن کے ذریعے اس وسوسے کو ختم کر دیتا ہے۔
بدگمانی کے تباہ کن اثرات
بدگمانی انسان کے دل کا سکون چھین لیتی ہے۔ یہ محبت کو نفرت، اعتماد کو شکوک اور اخوت کو فاصلے میں بدل دیتی ہے۔
بدگمان شخص ہر بات کا منفی پہلو دیکھتا ہے، ہر عمل کی غلط تعبیر کرتا ہے اور رفتہ رفتہ لوگوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی بدگمانی آگے چل کر غیبت، تہمت، چغل خوری اور باہمی اختلافات کا سبب بنتی ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں، وہاں محبت، تعاون اور اتحاد قائم نہیں رہ سکتا۔
حسنِ ظن کیسے پیدا کیا جائے؟
حسنِ ظن اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان جلد بازی سے بچے، دوسروں کے لیے اچھے عذر تلاش کرے، کسی ایک واقعے کی بنیاد پر رائے قائم نہ کرے اور کسی بھی خبر یا بات کو تحقیق کے بغیر قبول نہ کرے۔
سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے کہ وہ اس کے دل کو پاکیزہ رکھے اور اسے شیطان کے وسوسوں سے محفوظ فرمائے۔
اختتامیہ
حسنِ ظن دراصل ایک پاکیزہ سوچ کا نام ہے۔ یہ انسان کو ذہنی سکون، قلبی اطمینان اور مضبوط تعلقات عطا کرتا ہے۔ اس کے برعکس بدگمانی دلوں میں نفرت، بداعتمادی اور اختلافات کو جنم دیتی ہے۔
آئیے! ہم عہد کریں کہ دوسروں کے بارے میں اچھا سوچیں گے، ان کے لیے اچھے عذر تلاش کریں گے اور اپنے دل کو بدگمانی جیسے اخلاقی مرض سے پاک رکھنے کی کوشش کریں گے۔ یہی قرآن کی تعلیم، رسول اللہ ﷺ کی سنت اور صالحین کا طریقہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں پاکیزہ دل، مثبت سوچ، حسنِ ظن اور بہترین اخلاق عطا فرمائے، اور ہمارے معاشرے کو محبت، اخوت اور اعتماد کا گہوارہ بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔

