Skip to content

توازن

نیر تاباں

Newfoundland

دینِ اسلام ایک خوبصورت توازن لئے ہوئے ہے۔ ایسے میں ممکن نہیں کہ عورت کا مقام مرد سے کم تر ہو۔ ممکن ہی نہیں! وہ بیٹیوں کی صورت ہو تو نبی ٌ دو انگلیاں ملا کر فرماتے ہیں کہ یوں میرے ساتھ کھڑا ہو گا بیٹیوں کی تربیت کرنے والا باپ۔ بیوی کی صورت ہو تو اچھی بیوی بہترین متاع قرار دی گئی۔ ماں بنی تو اولاد کی جنت اس کے پاؤں میں بچھا دی گئی۔

عورت کو کبھی نازک آبگینے، تو کبھی ٹیڑھی پسلی سے تشبیہ دی گئی۔ بات فقط اتنی ہے کہ اسے محبت سے رکھو۔ بہت نرمی سے رکھو۔ یہاں مرد مار کھا جاتے ہیں۔ عورت کو تو نہیں کوئی ایسی تاکید کی گئی۔ کیونکہ وہ جو مرد و زن کا خالق ہے وہ عورت کا دل پہچانتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہی نہیں تھی کہ محبت اور وارمتھ دینے کی تاکید کی جاتی۔ یہ ہمارے اندر سے پھوٹتا ہے۔ ہاں، جس تاکید کی ہمیں ضرورت تھی، وہ اطاعت کی تھی۔ ٹیڑھی پسلی والی سرشت ہمارے اندر موجود ہے، ایسے میں محبت دینا آسان تھا، بات ماننا مشکل۔ یہ کام عورت پر بھاری ہے، اسی لئے تاکیدا” کہا گیا۔ شوہر کو قوام بنا دیا گیا۔ provider اور اس سے بڑھ کر protector.

لیکن توازن ❤
ایک طرف اگر شوہر کو قوام کی صورت درجہ اوپر دیا گیا تو دوسری جانب ماں کے تین درجے بڑھا دیے گئے۔

توازن ❤
مرد اور عورت اپنی جنس کے اعتبار سے برابر ہیں۔ اپنے اعمال کی جواب دہی کرتے وقت کسی کو کسی پر درجہ حاصل نہ ہو گا۔

ہم اس توازن کا حصہ ہیں۔ کسی سے کم تر ہیں، نہ برتر۔
بس یہی مقام ہم مانگتے ہیں، یہی مقام ہم چاہتے ہیں ❤ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *