Skip to content

اکنا کنونشن 2025

درد،امید اور سخن اکنا کنونشن 2025 کی شعری نشست کا احوال

اکنا کنونشن میں گیارہ اکتوبر کو پروگرام کے آخر میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد یہ تھا کہ اردو ادب میں پاکیزہ خیالات کی شاعری کے اظہار کا سفر رواں دواں رہے_ اہل قلم کی کاوشوں سے استفادہ حاصل کیا جا سکے، اور اردو ادب میں اہالیان شمالی امریکہ کی خدمات سے فائدہ اٹھا یا جا سکے_
مشاعرے کی صدارت جناب ابراہیم شیخ صاحب نے کی_ جن کے انداز بیان سے اردو ادب سے لگاؤ کی بہترین عکاسی ہو رہی تھی _ یہ اور بات ہے کہ رات زیادہ ہو چکی تھی اور کافی تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی _ اگر یہی نشست عصر کے آس پاس رکھی جا سکتی تو رونقیں کافی بڑھ جاتیں _
مہمان خصوصی جناب اقبال مسعود ندوی اور جنید اختر صاحب تھے_
جناب صبغت اللہ نے خلیل الرحمٰن چشتی کی نظم پڑھی _محمد نواز نے نعتیہ کلام پڑھا پھر مختلف شعراء کرام نے حالات حاضرہ سے متعلق اپنے کلام پیش کئے _ خیالات کو گویا موتیوں میں پرو دیا گیاتھا، فلسطین اور غزہ کے مسلمانوں کی آہ، صبر وثبات اور دنیا ئےاسلام کے مسلمان ممالک کی بے حسی کی چادر پہ شبنمی قطرے ایسا محسوس ہو رہا تھا شاعروں کے درد بھرے جزبات اشکوں میں ڈھلا ہی چاہتے ہیں _ اور آس امید کی یہ محفل اختتام کو پہنچی_شرکاء کافی تھک چکے تھے لیکن سبھوں کے جذبے اورکاوشیں بے مثال تھیں _

رفعت اقبال صاحبہ ۔ Mississauga

ایمان ،عزم قیادت کے سنگ
ہر سال ہونے والی ICNA con کانفرنس ایک اجتماع نہیں بلکہ روح کی تجدید فکر کی بالیدگی اور اجتماعی وحدت کا مظہر ہے ۔یہ وہ موقع ہے جب ہم اپنے مقصد، اپنی دعوت اور اپنے عمل کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ کانفرنس ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دعوت اور تنظیم صرف ذمہ داری نہیں ایمان کی علامات ہیں ۔یہ اجتماع ہمیں اپنے نفس سے اوپر اٹھ کر امت کی فکر کرنے کی تربیت دیتا ھے۔ اپنے نوجوان بچوں کو والینٹر کرتا دیکھ کر رگوں میں حرارت پیدا ہوتی ھے ۔ ایمان کو تازگی ملتی ھے ۔اور عزم مضبوط ہوتا ھے ۔

اپنی قیادت سے ملاقات
یہ سالانہ کانفرنس ہمیں اپنی قیادت سے بالمشافہ ملنے ،سننے، سمجھنے اور سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ ملاقاتیں ہمارے نظریہ، وژن اور تجربے کی روشنی کو ہمارے دلوں میں منور اور مزین کرتی ہیں۔ جب ہم اپنی بہنوں سے ملتے ہیں تو خود بخود ان کی آنکھوں کی چمک اور ان کے ہاتھوں کی گرماہٹ ہمارے دلوں میں منتقل ہوتی ھے۔ قیادت سے جڑنا صرف رابطہ نہیں یہ عزم کی تجدید اور اعتماد کی بہالی ھے۔ یہی وہ لمحے ہیں جو ہمیں تحریک سے مربوط کرتے ہیں اور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم اکیلے نہیں بلکہ ایک بڑے مشن کے مجاہد ہیں ۔

ہماری ترجیحات اور امت مسلمہ
اج امت مسلمہ بے شمار چیلنجز سے دوچار ھے۔ فکری بھی، اخلاقی بھی اور اجتماعی بھی۔ ایسے وقت میں ICNA con ہمیں یہ راہ سجھاتی ھے کہ ہماری ترجیحات محض مقامی نہیں بلکہ عالمگیر ہونی چاہیے۔ جب تک ہم امت کے فکر کو اپنی فکر نہیں بناتے تبدیلی ادھوری رہتی ھے۔ یہ اجتماع ہمیں اپنے دائرہ کار سے نکل کر عالمی وژن کے ساتھ سوچنے کا حوصلہ دیتا ھے۔جب ہم چھوٹے بچوں کی ماؤں کو دیکھتے ہیں تو دعائیں نکلتی ہیں” اللہ انہیں استقامت دے ۔اللہ انہیں حوصلہ دے کہ یہ آنے والی نسلوں کی آمین ہیں ۔ یہ نسلیں اپنے ایمان ،علم اور کردار کے ذریعے امت کے زخموں پر مرہم رکھ سکیں”۔ آمین

اکنا بلاشبہ مبارکباد کی مستحق ھے۔
دو دن کیسے گزرے پتا ہی نہیں چلا ۔ پروگرام بھر پور ۔ سمیع حامدی ، یاسر قادھی، شیخ محمد الشناوی ،راضیہ حا مدی کی تقاریر میں حاضری قابل رشک تھی ۔
میٹریمونیل اور آخر میں پینل ٹاک سارے پروگرامات بہت محنت اور توجہ سے ترتیب دیے کئے گئے تھے ۔صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامات بھی بہترین تھے ۔
کچھ گلے رہے ،کچھ شکوہ رہا ۔دل اور نظریں اپنی بہنوں کو ڈھو تی رہی ۔
کچھ چہرے کم نظر آئے، تو دل نے پکارا ھے
یہی تو وہ کارواں ھے جو منزلوں کا سہارا ھے🩷

 سارہ طالب  Ajax

امید بہار رکھ!!!

خزاں کی رت جب اپنے ڈیرے ڈال رہی ہوتی ہےاور موسم سرما کی نوید دیتی ہے ایسے میں اکنا کینیڈا کنوینشن لہو گرمانے کا ایک بہانہ ہوتا ہے کہ تحریک ساتھیو ! کمر بستہ رہیں کیسے بھی موسم ہوں یا حالات تساہلی نہیں بس آگے بڑھتے رہنا ہے بھر پور صلاحیتوں کے ساتھ! یہ کنوینشن اکنا کینیڈا کے خاندان کا اجتماعی تجدید عہد کا موقع ہوتا ہے اس سال کا تجدید عہد تھا

“ ایمان کی ایسی مضبوطی کہ طوفاں کا ڈر نہ ہو” اللہ رب العزت ہمیں ایسی استقامت عطا کرے جس کی زندہ مثال غزہ کے مکین بے مکاں ہیں! کنوینشن کے تمام انتظامات ہمیشہ کیطرح اچھے تھے اس سال اکنا کینیڈا کا ایک اجتماعی بوتھ بنا کر اس میں اکنا سسٹرز ، اکنا برادرز، اکنا یوتھ اکنا الضحی انسٹیٹیوٹ کوپیش کیا گیا اس سے نئے آنے والوں کے لئے اکنا کینیڈا کا ایک اچھا تصور بنتا ہےتحریک کا میدان کار، طریقہ کارسمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ اکنا کا دائرہ کار زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے

سب پروگرامز کو سننا تو مشکل تھا شیخ محمد الشناوی ،یاسر قاضی اور عمیمہ سعید کو سنا – ہر مقرر کا اپنا انداز ہے پر نوجوانوں کے ہر دلعزیز مقرر یاسر قاضی “اقبال کے شاہین”
بادوباراں کی طرح چھا جاتے ہیں کہ ھال میں جس کو جہاں جگہ ملی تھم گیا اور جم گیا- یاسر قاضی بلندئ افکار اور پھر اس پر عمل کرنے پر زور دیتے ہیں، آپ اکثر مسی ساگا کے باسیوں کو جھنجھوڑتے ہیں کہ نارتھ امریکہ میں اتنی بڑی تعداد میں یکجا رہنا آپ کے لئے اللہ کا فضل ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اکنا تحریک کو مہمیز دیں!

دوسرے دن عمیمہ سعید کے پروگرام میں شرکت کی موضوع بہت اہم ذہنی صحت سے متعلق تھا محدود وقت میں وہ خوبصورتی سے بات کر گئیں یہ موضوع مزید وقت طلب تھا-ان دو دنوں میں بین الشہر بین الصوبائی تحریکی بہنوں سے ملا قات رہی بلکہ کچھ تحریکی بہنیں یو ایس سے بھی تشریف لائیں تھیں ان سے بھی ملاقات رہی- مجموعی طور پر یہ دو دن اپنے آپ کو ری چارج کرنے میں بہت مدد گار رہے! پروگرام کتنا ہی اچھا ہو خوب سے خوب تر کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے- اکنا کینیڈا کو کنوینشن کی کامیابی پر دلی مبارکباد !!!

Nasim Masroor Behan

Mississauga