شہلا خضر
ابن قیم رحمتہ علیہ نے فرمایا ” رمضان المبارک کودیگر گیارہ مہینوں پربالکل ویسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسی یوسف علیہ اسلا م کو اپنے گیارہ بھائیوں پر حاصل تھی ۔۔ایک کی وجہ سے گیارہ کی بخشش ہوئ ‘
الحمداللہ ۔۔۔۔رحمان الرحیم رب کی خاص مہربانی سے ایک بار پھر اپنی زندگیوں میں نیکیوں کے موسم بہار مہینے میں داخل ہو رہے ہیں ۔۔وہ رب اتنا مہربان ہے کہ ہماری نجات کے لیے اس پورے ماہ ہمارے تمام نیک اعمال کا اجر کئ سو گنا بڑھا دیتا ہے ۔۔ جہنم کے دروازے بندکر کے بڑے شیاطین قید کر دیتا ہے تاکہ اس کے زیادہ سے زیادہ بندے اس کی سجائ جنت میں داخل ہوجائیں۔۔۔۔
یہ مہینہ نہ صرف تمام مسلم امت کی روحانی و جسمانی پاکیزگی ۔اور ‘ تطہیر کا کام کرتا ہے بلکہ کردار و افکار کی بالیدگی و افزایش کے لیۓ مکمل تریاق ہے ۔۔
اس خاص الخاص مہینے کی زیادہ سے زیادہ برکات سمیٹنے کے لیۓ کے لیۓ کچھ خااص الخاص اعمال کو اختیار کرلیجیۓ ۔۔۔۔۔
چونکہ مہربان رب اپنے بندوں کے معاملات میں تعداد و مقدار نہی بلکہ اخلاص کا اعلیٰ معیار مطلوب ہے ۔۔۔۔
لہزاٰ چند معمولات جنہیں میں بھی اپنانے کی پوری کوشش کرتی ہوں آپ سے شییر کر رہی ہوں ۔امید ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس سال بھی میرے اور آپ سب کے لیۓ کارآمد ثابت ہوں گے ۔۔۔
۱_سب سے پہلے نئیت کر لیجیے کہ انشاءاللہ اس ماہ مبارک کو اپنی زندگی کابہترین اور کچھ مختلف رمضان بنایئں گے ۔۔۔
۲_سال بھر جو بھی عبادات کرتے چلے آرہے تھے اب پوری توجہ اور لگن سے اپنے مالک مہربان رب سے بہترین بندگی کا تعلق قائم کریں گے ۔۔۔۔
۳_قیام الیل اور تہجد کا اہتمام کریں ۔۔۔۔۔ تلاوت قرآن میں حسن پیدا کرنا ہے ۔۔۔ جو قرآنی سورتیں قیام۔الیل میں پڑھتے ہیں ان کے ترجمے بھی یاد کیجیے یا کم از کم معنی معلوم ہونے چاہیے ۔۔۔
ان نایاب گھڑیوں میں قرب الہئ ٰ محسوس کیجیے اور اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اپنی ہر دعا و مناجات رب کے روبرو پیش کر دیجیۓ ۔۔
نبیﷺ نے فرمایا “جب نماز میں میں سجدہ ریز ہوتا ہوں تو میرا دل بھی اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے ”
۴_ نبیﷺ کی سب سے زیادہ محبوب دعائیں یاد کیجیۓ ۔۔یہ دعاؤں اپنے روز و شب کا لازمی جز بنا لیجیے ۔۔۔
*_«يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ»،»،
“اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھنا”۔
*_(( ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار))/۔۔اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے ..
*_تیسرے عشرے کی اکسیر مسنون دعا ‘
«اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» ”اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے۔“
۵_ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” رمضان المبارک کے مہینے میں نبیﷺ کی سخاوت اور انفاق کا انداز کسی تیز رفتار آندھی سے بھی زیادہ سبک رفتار ہو جاتا تھا “/
رحمتوں اور برکتوں کا ماہ عظیم ہم پر سایہ فگن ہے تو ہم خصوصی طو رپر زکوٰۃ جیسے عظیم فریضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ کثرت سے صدقات و خیرات کا اہتمام کرتے ہوئے رب تعالیٰ کی جنت کے حصول کی کوشش کریں گے ۔۔ان شاءاللہ
۶_ ہمارا کوئ بھی عمل اللہ کے دربار میں اس وقت تک مقبول نہی ہوسکتا جب تک ہمارے دلوں میں ایکدوسرے کے لیۓ کینہ بغض و نفرت موجود ہے ۔۔لہزاٰ ماہ رمضان میں داخل ہونے سے پہلے دل صاف کریں ۔۔جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ فرماتے ہیں ”
ہم میں سے کوئ شخص بھی یہ جرائت نہی رکھتا تھا کہ دلوں میں کسی قسم کا بغض و کینہ لے کر ماہ رمضان میں داخل ہوں”
جب اتنے بلند پایہ صحابہ رمضان المبارک میں اپنے اعمال کی قبولئیت کے معاملے میں اسقدر محطاط تھے تو ہمیں اپنی ناقص و کم مایہ نیکیوں کے معاملے میں دلوں کی تطہیر کا کتنا خیال رکھنا چاہیۓ یہ ضرور سوچیے ۔۔۔
رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ”
دعا ہے کہ اس مبارک مہینہ میں ہم سب کو عبادت و ریاضت کے ذریعہ اس کا حق ادا کرنے اور اپنے لیے بخشش و مغفرت اور آخرت میں جنت کا مستحق بننے کی توفیق عطاء فرمائے۔۔آمین یا رب العالمین ۔