Skip to content

اصلاح احوال کی ذمہ داری

افشاں نوید
کیلیفورنیا

کراچی سے ایک ساتھی کا فون تھا۔خیریت دریافت کرنے کے بعد بولیں:”آپ کو شاید مصطفی قتل کیس کا پتہ ہی نہیں چلا آپ اتنی دور بیٹھی ہیں۔۔”
یہ کہہ کر انہوں نے تفصیلات بتانی شروع کر دیں۔تفصیلات اور تجزیے تو میڈیا پر بکھرے پڑے ہیں۔ اس کے گھر کے کمرے کی ایک ایک چیز کی وڈیو۔۔
بچپن کے دوستوں کو پکڑ کر وی لاگ بنائے جا رہے ہیں۔مختلف ٹی وی چینلز ہر حوالے سے کیس کو فوکس کر رہے ہیں۔۔
بحیثیت ایک ماں کے۔۔۔دل پارہ پارہ ہوجاتا ہے اس ماں کا دکھ محسوس کرکے۔۔
موضوع انتہائی تکلیف دہ ہے۔اتنی تکلیف دہ چیزیں کھوجنے کو دل چاہتا ہے نہ ان پر لکھنے کو۔۔۔میرا لکھنے کا ارادہ نہ تھا مگر۔۔۔
کل جب میری (یونیورسٹی کے زمانے کی) دوست کا سوالیہ میسج آیا “اب تک میرے بیٹے کے لیے کوئی رشتہ نہیں بتایا تم نے؟”
تو بے ساختہ اس موضوع پر لکھنے کو دل چاہا۔۔
اس کا 26 برس کا سب سے چھوٹا بیٹا… جس کے لیے رشتہ درکار ہے۔کینیڈا میں پیدا ہوا۔۔وہیں پلا۔بڑھا وہ شوہر کے بزنس کی وجہ سے کینیڈا اور پاکستان آنا جانا رکھتی۔۔پھر جیسا وہاں کا دستور ہے بچہ یونیورسٹی کے قریب ہوسٹل میں چلا گیا اور یوں اس سے رابطہ صرف فون ہی پر رہ گیا۔۔سال میں ایک دو ملاقاتیں۔۔
دو برس قبل لڑکے نے ایک یہودی لڑکی سے شادی کر لی کچھ اختلافات کی بنا پر وہ لڑکی چھوڑ کر چلی گئی۔اب اس کو بیٹے کے لیے پھر لڑکی کی تلاش ہے۔۔
یہ اطمینان بھی ہے کہ اس کی اگلی نسل ایک یہودی عورت کی گود میں پرورش پانے سے بچ گئی۔اس نے بیٹے کی تصاویر بھیجیں۔بڑے بالوں کی پونی ٹیل, ایک کان میں بالی, پورے ہاتھوں پر ٹیٹوز۔۔میں نے ٹیٹوز کے حوالے سے سوال کیا تو اس نے کہا:” کردار نقش و نگار میں تو نہیں چھپا!!اپنے دوستوں کے ساتھ جا کر کسی دن تفریحا ٹیٹوز بنوا لیے… کیا بڑے جرائم پیشہ لوگوں کے جسم پر ٹیٹوز ہوتے ہیں۔۔ کسی کے کردار کو ایسے کیسے ناپا جا سکتا ہے۔۔اچھی لڑکی ملے گی تو ٹھیک ہو جائےگا”۔
غرض اس نے اپنے بیٹے کی بے جا حمایت کی۔آنے والی سے بے جا توقعات رکھتے ہوئے۔مصطفی کی والدہ اور ارمغان کے والد کی گفتگو سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ خرابی کی ابتدا یہیں سے ہوتی ہے۔آپ اپنے بچوں کو جسٹیفائی کرتے ہیں۔بچے بے راہ روی کی طرف مائل ہوں تو ہم سوچتے ہیں کہ۔زمانے کا یہی چلن ہے ۔۔
اوروں کے بچے تو اس سے زیادہ بگڑے یوئے ہیں۔میرا تو اتنا خیال رکھتا ہے میرا بچہ۔باپ پر گیا ہے انکے خاندانی کرتوت بھی یہی ہیں۔ٹھیک ہو جائے گا عمر پڑی ہے۔“میرے بچے” دوسروں سے بہت اچھے ہیں۔۔۔
میرا بچہ ہونے کا یہ مطلب کیسے ہو گیا کہ وہ دوسروں سے بہت اچھا ہے۔یہ حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی۔۔۔ چونکہ میں نے پرورش کی ہے اس لیے سب سے ممتاز ہے۔یہ جو کہانی سامنے ائی اس سے جڑی ہوئی کتنی کہانیاں سامنے آرہی ہیں۔ کتنی لڑکیوں کے نام۔ڈرگز مافیا کے کہاں تک پہنچے ہوئے ہاتھ۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔نہ تعلیمی ادارہ اور استاد تربیت کر رہا ہے نہ والدین۔۔ رمضان میں قران کی بے شمار محفلی دوسری طرف پھیلتی ہوئی انارکی۔۔کراچی کے اسٹریٹ کرائمز کس کی نظر سے اوجھل ہیں۔یہ جرم ہمارے دائیں بائیں ہی پنپ رہے ہیں۔ہمارا سماج۔۔۔۔ہمارا اڑوس پڑوس ہی تو ہے۔کیا ہم نے اپنے 40 گھروں کے پڑوس کا حق ادا کر دیا؟ ہم میں سے ایک ہزار باشعور لوگوں پر شرہعت چالیس ہزار گھرانوں کی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔“لوگ دروازے نہیں کھولتے” تو کیا ہم نے کبھی دروازہ کھٹکھٹانے کی کوشش بھی کی۔سماج کو برا کہنا آسان مگر اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔۔۔اصلاح احوال کی ذمہ داری ہم پر عاید ہوتی ہے۔
معاشرہ نہیں بدل سکتے مگر اپنے حصے کی حجت تو تمام کر جائیں۔والدین کا دولت مند ہونا نہیں باشعور ہونا بہت ضروری ہے۔جہاں والدین میں اختلافات ھوں ان گھروں کے بچوں کی ایسی ہی مجہول شخصیتیں ہوتی ہیں۔کتنے فخر سے باپ کہتا ہے :” میں نے اولاد کے لیے کمایا” حالانکہ باپ اپنی اولاد کو جو سب سے قیمتی چیز دیتا ہے وہ اس کی تربیت ہے۔ہم اپنے بچوں کے تعلیمی ادارے کا انتخاب کرتے ہوئے کن چیزوں کو پیش نظر رکھتے ہیں۔کیا ان کے اساتذہ سے ذاتی رابطہ رکھتے ہیں؟ بچوں کی ہر خواہش پوری کرنا انکی تربیت نہیں ہے۔جو بچے کی تربیت کی عمر ہے وہ ناز اٹھانے میں گزار دیتے ہیں۔جو تربیت ماں نہ کرسکی وہ بہو کیسے کرسکتی ہے؟ ہر حادثہ اور سانحہ ہمیں خود سے رجوع کرنے کی دعوت دیتا ہے۔                    

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *