ثمینہ ضیاء
اوشاوہ
سیدنا صفیان بن عبداللہ السقفی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے اسلام میں ایسی جامع بات بتائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ثابت قدم ہو جاؤ ۔امنت بااللہ یہ ایک عہد و پیمان ہے۔ جس کے معنی ہیں میں نے اللہ تعالی کے ہر حکم ہر ہدایت کو جلد و جان سے مان لیا اور دین اسلام پر عمل کرنے کی ذمہ داری کو قبول کر لیا ۔
ایمان کی مضبوطی کے لئے استقامت
استقامت کیا ہے ؟ پختگی اور مضبوطی، جم جانا، ڈٹ جانا، پامردی دکھانا۔
ایمان جس درجے کا ہوگا استقامت بھی اسی درجے نصیب ہوگی۔
ایمان کے نہ ہونے کی علامتیں
احساس ذمہ داری نہ ہونا،
برائی دیکھ کر پریشان نہ ہونا
اطاعت میں سستی ،
قران سے تعلق میں کمی،
دنیا کی حرص، اگے بڑھ جانے کی تمنا، عہدے اور مرتبے کی تمنا،
بخل اور کنجوسی،
ایمان کی بنیاد پر تعاون نہ کرنا،
معمولی بحث ،
نیکی کو حقیر سمجھنا
ہم قرآن پڑھتے ہوئے بے شمار آیات سے گزرے گے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے بنیادی عقیدے ، نظریات ، ایام اللہ اور ایمان بڑھانے کے اسباب پر بلکہ ایمان والوں کے لئے خوش خبریاں اور ایمان نہ قبول کرنے کے انجام پر بات کی ہے
ایمان صرف دعوے کا تو نام نہیں یہ تو وہ چنگاری ہے جو قلب میں حرارت دے اور روح کو تڑپائے اور عمل میں نظر آئے قران کو پڑھنے اور سننے والوں کی صبح و شام اس خاص ایمان کی روشنی سے منور ہوں جو انہیں حرکت میں رکھے اور یہ تب ہوگا جب اللہ سے اور قرآن سے تعلق مضبوط ہوگا یہ کتاب اس وقت تک کچھ نہیں دے گی جب تک ہم اس کا حق ادا نہ کریں گے۔ لہذا پہلے اسے اپنے دل میں اتارنا ہوگا اس سے مراد یہ کہ ہر آیت ہر پیغام دل کے دروازے پر دستک دے جذبے بڑھائے اور ایسی خواہش بن جائے جو چین سے بیٹھنے نہ دے
ثم استقاموا
حالات حاضرہ سے باخبر رہ کر
ایک امت کا تصور
دعائیں اور مدد
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے ۔
آسانیوں سے پوچھ نہ منزل کا راستہ
اپنے سفر میں رکھ کے پتھر تلاش کر
ذرے سے کائنات تفسیر پوچھ لے
قطرے کی وسعتوں میں سمندر تلاش کر۔