Skip to content

ہمرہی کا خمار

  • by

بشریٰ ودود

پاکستان

یہ جو ہمرہی کا خمار ہے،
یہ عجیب جانِ بہار ہے..
کبھی ھنس دئیے،
کبھی رو دئیے،
نہ تو جیت ہے،
نہ ہی ہار ہے۔۔
کوئی کیسے؟ اس سے بچا کرے؟
کوئی کیسے قرض ادا کرے؟
یہ ہی زخم ہے۔۔
یہ ہی درد ہے۔۔
یہ ہی بزم ہے۔۔
یہ وقار ہے۔۔
کبھی اُٹھ کے کوئی چلا گیا۔۔
کہیں چپ سے کوئی دوا کیا۔۔
وہ جو زندگی نے چکا دیا۔۔
وہ نہ قرض تھا، نہ ادھار ہے۔۔
میری زندگی کے سب ہی ورق،
جو پلٹ دیئے ھیں ہواؤں نے۔۔
وہ جو راز تھے، وہ فشاں ہوئے،
وہ جو زخم تھے،
وہ فگار ہیں۔ میری زندگی کی۔۔ فصاحتیں، وہ بلاغتیں، وہ شکایتیں،
جو رُکیں،، تو جان بہار تھیں۔۔
جو چلیں تو راہ غبار ہیں۔