ریشماں یسین
مسی ساگا
انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ خود کو ان گنت نعمتوں کے درمیان پاتا ہے۔ یہ نعمتیں اس قدر ہیں کہ انسان ساری زندگی بھی انہیں گنتا رہے تو زندگی ختم ہوجائیگی مگر نعمتیں ختم نہیں ہونگی اسی لئے قرآن حکیم میں جگہ جگہ انسانوں کو نعتموں کا شکر اور غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔اگر ہمیں غوروفکر کی عادت ہوجاۓ تو ہمارا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہو جاۓ گا۔ قرآن کریم میں اللّہ تعالیٰ کا ارشاد
’إِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّہَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ‘‘(آلِ عمران:۱۹۰)
ترجمہ :بلا شبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں ۔
ایسے ہی موسموں کا بدلنا بھی اللّہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا مظہر ہے۔ کبھی سخت گرمی جو جھلسا دینے والی لُو کے ساتھ مزید سخت ہو جائے اور برف تک کو پگھلائے، اور کبھی یخ بستہ سردی، جو مائع کو بھی جمادے۔ کبھی ہر طرف ہریالی کی پوشاک اوڑھے پیڑ اور مختلف رنگوں کے خوبصورت پھول، اور کبھی اداسی بکھیرتے خشک اور زرد پتوں کا موسم، یہ تمام حالات بھی اللّہ تعالی کی طرف ہی سے ہیں ۔ان میں سے ہر موسم اپنی ایک الگ خصوصیت اور شناخت رکھتا ہے اور ان میں انسان کے لیے بہت غور و فکر کرنے کی چیزیں ہیں۔ انہی موسموں میں ایک موسم، موسم خزاں کا ہے ۔موسم خزاں جہاں جدائی کا موسم ہے تو وہیں اسی موسم کی گود میں نئے پودے اور فصلیں نہ صرف پرورش پاتے ہیں بلکہ اپنے وقت مقرر پر تیار بھی ہوجاتے ہیں۔
دیکھا جاۓ تو خزاں کے رنگ واقعی سحر انگیز ہوتے ہیں اور موسم کے جوہر کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں ،جیسے جیسے دن چھوٹے ہوتے جاتے ہیں اور سورج کی طاقت ختم ہوتی جاتی ہے ،درختوں کے سبز پتے سرخ نارنجی اور پیلے رنگ کی ایک شاندار صف میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت اپنے برش سے دنیا کو پینٹ کر رہی ہے ۔ یہ تبدیلی کا موسم ہے، گرتے ہوئے پتے عدم استحکام کی کہانیاں سناتے ہیں اور ہوا کی تبدیلی وعدہ کرتی ہے ہر سمت بکھرے ہوۓ سرخ ،زرد پتے جہاں منظر کو حسین بنا رہے ہوتے ہیں وہیں وہ ماحول کو افسردہ بھی کررہے ہوتے ہیں ۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
خزاں میں شاخ سے گرتے اداس پتوں نے
مجھے یہ درس دیا ہے زوال سب کو ہے
موسم خزاں ہمیں یہ پیغام دیتاہے کہ اللّہ تعالیٰ کے سوا ہر شے کو زوال ہے۔روزانہ اُبھرنے والے سورج کی منزل کو بھی ڈوب جانا ہے۔مضبوط وجود بھی و قت مقرر کے بعد خاک بن جاتا ہے۔ حسین ترین چہروں کی خوبصورتی کو وقت کی دیمک چاٹ کر انہیں ختم کردیتی ہے ۔اسی طرح گرتے پتے بھی ہمیں یہی پیغام دیتے ہیں کہ کوئی چیز دائمی نہیں ! موسم خزاں ایک ایسا موسم ہے جو ہمیں تبدیلیوں کو قبول کرنے، قدرت کے فضل کی قدر کرنے اور خود کو دریافت کے سفر پر جانے کی ترغیب دیتا ہے۔ قدرت کا کوئی کام بے مقصد نہیں ہوتا۔ خزاں کا موسم ہرے بھرے لہلاتے درختوں کو سوکھے پیڑوں میں تبدیلی کے پیچھے بھی قدرت کی حکمت ہے کیوں کہ خزاں کے بعد موسم سرما کی آمد ہوتی ہے اور اس موسم میں سردی کے باعث انسان کو دھوپ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے اس موسم میں درختوں کا سایہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ سردی کے موسم میں پھول اور پودے بھی خنکی کے باعث اپنی ہریالی کھو دیتے ہیں اس لئے موسم سرما سے پہلے خزاں کا آنا نہایت ہی موزوں ہوتا ہے۔ اسی لئے خزاں کے موسم میں گھروں میں اداس ہو کر بیٹھنے سے بہتر ہے کہ باہر نکلیں اور ان خوبصورت رنگوں کی زبان کو سمجھیں، زندگی کو محسوس کریں اور گرے ہوئے پتوں کو دیکھ کر اپنے اندر ایک نئی امید پیدا کریں کہ اب پھر سر سبز و شاداب ہونا ہے۔ امید ہی اصل زندگی ہے۔
خزاں رتوں کے پرندوں پلٹ کے آجاؤ
درخت دینے لگے ہیں ہری بھری آواز

