Shah Zareen Mohammad
Riyadh Saudi Arabia
غم تو ستاتا ہے ہم نے سنا تھا
آٹھ آنسو رلاتا ہے ہم نے سنا تھا
سنا تھا یہ ہم نے کہ اچھا ہے غم بھی
کہ ہلچل مچاتا ہے ہم نے سنا تھا
کرب و بلا کی یہی اب فضا ہے
گو سارا زمانہ ہی غم آشنا ہے
مگر وہ تلاطم ، شجاعت کہاں ہے
جو غم کا نتیجہࣿ خود ساختہ ہے
بدل دی کیا غم کی تعریف تم نے
سنا تھا جو وہ کیا اب گم گشتہ ہے
نہ تحریک پھوٹی، نہ ٹوٹا کفر ہے
نہ ترے روزوشب پہ ہوا کچھ اثر ہے
ابھی بھی مکر ہے، یونہی بے فکر ہے
ایسا نہیں ہے کہ تُو بے وفا ہے
مگر تجھ سے ہوتی نہیں اب وفا ہے
یہ عظمت کی چوکھٹ ،تیرے بس میں نہیں ہے
ترے بد عمل کا ثِقل جو لدا ہے
اب اپنےغم سے گہرا رشتہ ہوگیا ہے
مرے ایمان کی صفِ ماتم روز بچھتی ہے
تم تو ہوۓ ہو سرخرو، بجنابِ ربّ کریم کے
مرے امتحان کی گھڑی اک اور بڑھ چلی ہے
کہاں لا کے چھوڑا ہے تمھاری بے باکی نے مجھے
کہ میری یہ ذات اپنی ہی نظر میں گر گئی ہے
مسلمان تو میں بھی تھی کچھ کچھ مگر
اب بات اس سے بہت آگے بڑھ گئی ہے
تم نے تو جان ہی دے ڈالی مگر
میں مطمئن ہوں کہ یہ سب میرے اختیار میں نہیں ہے
اب اپنے غم سے گہرا رشتہ ہوگیا ہے
مرے ایمان کی صفِ ماتم روز بچھتی ہے وہ
شہیدوں کا مسکن ،وہ غزہ ہمارا
وہ ایماں ہے میرا، مثلِ کعبہ ہمارا
وہ چھلنی ہےاور دل ہے چھلنی ہمارا
اس کو باطل نے روندا مگر یاد رکھنا
واں وہ سربکف غازی ، ہتھیلی پہ جاں ہے
اس کو للکار دیکھو ، وہ تو سیفِ عیاں ہے
وہ جو جھپٹا تو اُکھڑے تم اپنی ہی میں سے
تم کہاں اس کو پاؤ گے وہ تو اذنِ خدا ہے
اے میرے بھائی بندو، تم کو ڈھیروں دعائیں
تم ہو امت کا سِہرا ، تم تو عزت ہماری

