Skip to content

تقوی

  • by

محمودہ خان

Ajax

تقوی کیا ہے؟ آج ہم اس کو سمجھتے ہیں۔ تقوی کا ترجمہ اکثر احباب ڈر لکھ دیتے ہیں ۔ ڈر بےشمار قسم کے ہوتے ہیں۔ ہم ایذا پہنچانے والی چیزوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ ہمیں چور ڈاکوؤں کا بھی ڈر ہوتا ہے۔ بعض اوقات آپس کی دشمنی اور جان جانے کا بھی ڈر اور خطرہ ہوتا ہے۔ *قرآنی اصطلاح میں ڈر* سے یہ مراد نہیں۔ ان میں سے کوئی لفظ تقحوی’ کے مفہوم کو ادا نہیں کرتا ۔
تقوی ایک ایسا ڈر ہے جو کسی محبت کرنے والے کو اپنے محبوب کی ناراضگی کا ہوتا ہے۔ ہم والدین سے محبت کرتے ہیں تو کوئی کام کرنے سے پہلے یہ خیال ضرور آتا ہے کہ کہیں والد گرامی ناراض نہ ہو جائیں۔ اس لیے نہیں کہ ہم ان سے ڈرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ہمارے دل میں ان کا ایک مقام ہے، ایک عظمت ہے ۔ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہم سے خفا ہوں ۔بالکل اس طرح کا تعلق ہمارا اپنے رب سے بھی ہونا چاہیے ۔ایک مومن کا دل اپنے رب کی ناراضگی سے کانپتا ہے ۔وہ ہر قدم پر سوچتا ہے کہ میرا یہ عمل آللہ تعالیٰ کو پسند آئے گا یا نہیں۔اللہ تعالی دن میں پانچ مرتبہ اپنے بندوں کو اپنے پاس بلاتا ہے کہ *آو میری طرف ،مجھ سے جو چاہتے ہو مانگو، جو خطرہ لاحق ہے میرے حضور پیش کرو۔ مجھے سے اپنا دکھ درد بیان کرو میں تمہارا خالق ہوں ,مجھ سے اپنی حالت بیان کرو ،میرے سامنے اقرار کرو کہ تم میرے بندے ہو اور میں تمہارا خالق و مالک ہوں ، رازق ہوں تمہاری حاجت پوری کرنا ہی میرا منصب عالی ہے ،میری قدرت کاملہ تمہاری ہر ضرورت پوری کرتی ہے۔*
بسا اوقات جن چیزوں کو ہم اپنی ضرورتیں سمجھتے ہیں وہ ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتی اور بعض ایسے ہی نعمتیں جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا لیکن ہمارا رب قادر مطلق ہے وہ سب جانتا ہے اور ہماری حاجت ہمارے مانگنے سے پہلے ہی پوری کر دیتا ہے۔
*قران پاک میں اللہ پاک فرماتے ہیں جو اللہ تعالی سے ڈرتا ( تقوی اختیار کرتا) ہے اللہ تعالی اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اس کو وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔(سورہ اطلاق آیت 2)*
بس یہی تقوی ہے ,اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں تقوی پر ثابت قدم رکھے (آمین ثم آمین )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *